موجود ہیں کہ جس سے بڑھ کر اِس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ اور جس اعلیٰ ثبوت پر اِس پیشگوئی کے یہ تینوں پہلو پائے جاتے ہیں میں ہرگز باور نہیں کرسکتا کہ اِس کی نظیر اسلامی تاریخ کے تیرہ سو برس میں یاعیسوی تاریخ کے اٹھارہ سو برس میں مل سکے۔ ظاہرہے کہ اِس کا پہلاپہلو یعنی نفس پیشگوئی کو عام طور پر شائع کرنا ایسا اِس ملک کے تمام فرقوں میں ایک شہرت یافتہ امر ہے کہ ہندوؤں اور عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی اِنکار نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی اشاعت نہ صرف میں نے کی تھی بلکہ لیکھرام نے بھی اپنی کتابوں میں آپ کی تھی اور دوسرے ہندو اور مسلمان اخباروں نے بھی کی تھی اور فریقین نے قبل از وقت اِس پیشگوئی کے بارے میں اِس قدر تحریریں نکالی تھیں کہ یہ واقعی امر ہے کہ پنجاب کے کل اور تمام وہ لوگ جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے کسی قدر پڑھے لکھے تھے اِس پیشگوئی کے مضمون سے اِطلاع رکھتے تھے اور انجام کے منتظر تھے ۔ اور دوسرا پہلو یعنی کیا یہ پیشگوئی ایک معمولی بات تھی جیسا کہ مثلاً کوئی خبر دے کہ برسات میں کوئی بارش ہو جائے گی یا درحقیقت اِس میں کوئی خارق عادت امر تھا۔ پس واضح ہو کہ اِس پیشگوئی کا یہ پہلو بھی نہایت روشن ہے کیونکہ یہ پیشگوئی نہ ایک خارق عادت امر پر بلکہ کئی خارق عادت امور پر مشتمل تھی کیونکہ پیشگوئی میںیہ بیان کیا گیا تھا کہ لیکھرام جوانی کی حالت میں ہی مرے گا اور بذریعہ قتل کے مرے گا۔ کسی بیماری تپ یا ہیضہ وغیر ہ سے نہیں مرے گا اور قتل کا واقعہ بھی ایسا دہشت ناک ہوگا جو دلوں کو ہلادے گا اور نیز یہ کہ اس کی موت پرشور برپا ہوگا اورغوغا اُٹھے گا۔ اور نیز یہ کہ یہ واقعہ چھ برس کے اندر ظہور میں آجائے گا اور نیز یہ کہ روزِ قتل شنبہ کا دن ہوگا اور نیز یہ کہ عید کے دن سے وہ دن ملا ہوا ہوگا یعنی دوسری شوال ہوگی۔
اب ظاہر ہے کہ یہ تمام امور انسانی علم اور اٹکل سے بالا تر ہیں اور کسی کے