غرض یہ پیشگوئی ایک عظیم الشّان پیشگوئی ہے* اور جس قدر کوئی طالب حق اِس میں غورکرے گا اُسی قدر حق الیقین کے مرتبہ سے نزدیک ہوتا جائے گا۔ جو شخص نیک نیتی سے ہدایت کا طالب ہو اُس کو سوچنا چاہیئے کہ ہمیشہ پیشگوئیوں کے تین پہلو قابل غور ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ ہر ایک پیشگوئی میں دیکھا جاتا ہے کہ جب وہ لوگوں کے سامنے بیان کی گئی یا شائع کی گئی تو کیا اُس کی اشاعت ایک ایسے درجہ تک پہنچ گئی تھی جو اطمینان بخش ہو اور کیا اُس کی ایسی شہرت ہوگئی تھی جس کو عام شہرت کہہ سکتے ہیں یا اُس کا نام تو اتر رکھ سکتے ہیں۔ دوسرا پہلو یہ قابل غور ہوتا ہے کہ جب کوئی پیشگوئی شائع کی گئی اور تمام موافقوں اور مخالفوں میں پھیلائی گئی تو کیا اُس کے مضمون میں کوئی خارق عادت بیان تھا جو انسانی اٹکلوں کے دائرہ سے بالا تر خیال کیا جاتا یا ایسا بیان تھاکہ ایک عقلمند علم ہیئت یا طبعی سے مدد لے کر یا کسی اور طریقہ سے بیان کرسکتا ہے۔ تیسرا پہلو جو پیشگوئیوں میں قابل غور ہوتاہے وہ یہ ہے کہ کیا ایک پیشگوئی جس قوت اور عام شہرت سے پھیلائی گئی تھی اسی طرح عام شہرت کی شہادت سے پوری بھی ہوگئی یا نہیں۔ سو اب ؔ سوچ کر دیکھ لو کہ یہ تینوں پہلو اِس پیشگوئی میں ایسے اکمل اور اتم طور پر * اس پیشگوئی کی عظمت حدیث نبوی کے رُو سے بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ ایک حدیث نبوی کا منشاء یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک شخص قتل کیا جائے گا اور آسمانی آواز جو رمضان میں آئے گی گواہی دے گی کہ وہ شخص غضب الٰہی سے مارا گیااور شیطان آواز دے گا کہ وہ مظلوم مارا گیا حالانکہ اُس کا مارا جانا مسیح کے لئے بطور نشان کے ہوگا۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ جیسا کہ برکات الدعا کے آخری صفحہ ٹائٹل پیج سے ظاہرہے آسمانی آواز نے ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ ؁ھ کو لوگوں کو مطلع کیاکہ ایک فرشتہ لیکھرام کے قتل کے لئے مامور کیا گیاہے اور شیطان نے سچائی کے دشمنوں کے دِلوں میں ہوکر یہ آواز دی کہ لیکھرام مظلوم مارا گیا۔ سو یہ پیشگوئی مجھ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مشترک ہے اِس لئے عظیم الشان ہے۔ منہ