قدرت اور اختیارمیں نہیں کہ محض اپنے منصوبہ سے ایسی خارق عادت اور فوق الطاقت باتیں بیان کرسکے جو آخر اُسی طرح پوری بھی ہوجائیں۔ تیسرا پہلو اِس پیشگوئی کا یہ ہے کہ یہ کس طرح پر پوری ہوئی آیا تمام لوگوں نے اور ہر ایک نے اِس ملک کے فرقوں میں سے معلوم کرلیا کہ جیسا کہ بیان کیا گیا تھا لیکھرام اس دہشت ناک موت سے مرا جس سے تمام ہندوؤں کے دل ہل گئے یا لوگوں کو اس بات میں شک رہا کہ شاید اب تک زندہ ہے یا یہ کہ کسی دہشت ناک یا شور برپا کرنے والی موت سے نہیں مرا بلکہ معمولی طور پر کسی تپ یاکھانسی یا بواسیر سے مرگیا ہے جس پر نہ کوئی شور اُٹھا اور نہ دِلوں پر چوٹ لگی۔ اور ظاہر ہے کہ قتل کی موت سے بڑھ کر اورکوئی بھی صورت موت کی ایسی نہیں جو دنیا میں دہشت اور شور و غوغا کو پھیلاوے اور دلوں کو ہلاوے اور کینوں کو برپا کرے او ر خود پیشگوئی میں صریح لفظوں میں قتل کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اب اِس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اِس پیشگوئی کے تینوں پہلو ایسے اعلیٰ درجہ پر اور بدیہی الثبوت ہیں جن سے بڑھ کر تصور نہیں کرسکتے۔ دیکھو کس زور شور سے برکات الدعا کے ٹائٹل پیج میں قبل از وقت شائع کیا گیا تھا کہ اگر اِس پیشگوئی کا خلاصہ یہی نکلا کہ کوئی معمولی تپ آیا یا درد ہوا تو سمجھو کہ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ وہ اشتہار جس میں مَیں نے الہام عجل جسد لہ خوارلکھا ہے جو کتاب آئینہ کمالات اِسلام کے ساتھ شامل ہے اُس الہام کے نیچے جو تشریح ہے اس کی تمام عبارت غور سے پڑھو اور پھر اس کے بعد وہ تمام عبارت غور سے پڑھو جو برکات الدعا کے ٹائٹل پیج میں درج ہے۔ اور پھر وہ اشعار غور سے پڑھو جو الہام عجل جسد لہ خوار کے ساتھ اشتہار میں درج ہیں جن کے اخیر میں ایک ہاتھ بنا ہوا ہے جو لیکھرام کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اور پھر وہ کشف غور سے پڑھو جو برکات الدعا کے اخیر صفحہ کے حاشیہ پر ہے اور پھر وہ عربی شعر