بیل کی طرح آواز کرتا تھا اسی طرح لیکھرام بھی نفسانی ہوا کی وجہ سے آوازیں نکالتا تھا اور وہ ہوا نفسانی جذبات کی کشش سے اُس کے اندر داخل ہوتی اور پھر نہایت تاریک جذبات کے ساتھ نکلتی تھی۔ اور پھر منجملہ اُن اشارات کے جو اِس پیشگوئی میں ہیں۔ ایک یہ بھی ہے کہ جب اس ربّانی الہام نے لیکھرام کو گوسالہ سامری قرار دیا اورآریوں کو سامری سے مشابہت دی جنہوں نے اس گوسالہ کو آوازوں پر آمادہ کیا تا اُن آوازوں پر تمام قوم جمع ہو جائے اور موسیٰ کی آواز سے مُنہ پھیر لیں تو اِن دونوں قِصّوں کو باہم مشابہت دے کر مجھ کو خدا تعالیٰ نے موسیٰ قراردے دیا۔ اور منجملہ اُن اشارات کے جو اِس پیشگوئی میں ہیں ایک یہ بھی اشارہ ہے کہ اس واقعہ قتل کے بعد جیسا کہ سامری گروہ کی رونق جاتی رہی تھی اور اُن کے خیالات ترقی سے روکے گئے تھے اور اُن کے مقابل پر موسیٰ اور اُس کے گروہ کی بہت ترقی ہوگئی تھی اور آسمانی کتاب بھی اُسی وقت موسیٰ کو ملی تھی۔ اِس جگہ بھی ایسا ہی وقوع میں آیا اور خدا تعالیٰ نے میرے گروہ کو بہت ترقی دی یہاں تک کہ اب یہ گروہ دس ہزار کے قریب پہنچ گیا اور ہماری تائید میں بہت سی سچائیاں ظہور میں آئیں یہاں تک کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کا پتہ لگ گیا اور جیسا کہ حضرت موسیٰ نے اس واقعہ کے بعد بڑی عزت پائی تھی اسی کے مطابق اِس بندہ کی عزت کو بھی اُس قادر کریم نے زیادہ کیا اور جس طرح گوسالہ بنانے کے بعد خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر طاعون بھیجی تھی جس کا ذکر توریت خروج باب ۳۲ آیت ۳۵ میں ہے اسی طرح لیکھرام کے مرنے کے بعد بھی اِس ملک میں طاعون پھیلی۔