مقدس ثابت کرنے کے لئے یہ ایک جھوٹا او ربے اصل بیان سامری نے پیش کردیا کہ رسول کے قدموں کی خاک کی برکت سے یہ آواز آتی ہے تا وہ لوگ اس گوسالہ کو بہت ہی مقدس سمجھ لیں اور تا سامری ایک کراماتی انسان ماناجائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رونق اور عزت کمؔ ہو جائے۔ قرآن شریف نے ہرگز اِس بات کی تصدیق نہیں کی کہ درحقیقت وہ آواز رسول کی خاکِ قدم کی وجہ سے تھی صرف سامری کا قول نقل کردیا ہے اور جیسا کہ قرآن شریف کی عادت ہے جو بعض اوقات کفار کے اقوال نقل کرتا ہے اور بوجہ بداہت بطلان اُن اقوال کے ردّ کرنے کی حاجت نہیں دیکھتا بلکہ فقط قائل کا کاذب یافاسق ہونا بیان کرکے دانشمندوں کو اصل حقیقت سمجھنے کے لئے متنبہ کرتا ہے۔ ایساہی اِس جگہ بھی اُس نے کیا۔ سو اب سامری کے اس جھوٹے منصوبہ کی مشابہت لیکھرام سے یہ ہے کہ آریوں نے بھی محض دھوکہ دہی کی غرض سے لیکھرام کو ایک مقدس اور فاضل انسان قرار دے دیا اور اُس کی چند گندی کتابیں جو محض عیسائیوں کی کاسہ لیسی سے اُس نے لکھی تھیں اور بقول شخصے نقل راچہ عقل۔ پادریوں کی اُردو کتابوں کی نقل تھی ان ہی باتوں کو سرمایہ فضیلت سمجھ لیا اور جس طرح سامری نے یہ بہانہ بنایا تھا کہ رسول کے قدم کی برکت سے اُس گوسالہ نے بیل کی سی آواز کی ہے۔ اسی طرح اُس کی گندی تحریریں ایشر کی کرپا کی وجہ سے سمجھی گئیں اور خیال کیا گیا کہ یہ شکتی ایشر نے اُس کو دی کہ مسلمانوں کا اُس نے مقابلہ کیا حالانکہ وہ شخص اپنی ذات سے ایک نادان اور بے علم آدمی اور موٹی سمجھ کا ایک ہندو تھا اور جو کچھ اُس نے لکھا نہایت بیہودہ اور سراسر باطل تھا جو اُس کے فطرتی حمق اور موٹی عقل کی وجہ سے اُس سے ظہور میں آیا۔ اور جس طرح سامری کا کھلونا جس میں دونوں طرف سوراخ تھے ہوا کے اندر باہر آنے جانے سے