چُھری کے ساتھ زیادہ کھولا۔ پھر اُس کی لاش پر ڈاکٹری امتحان کی چُھری چلی۔ غرض گوسالہ سامری کی طرح تین مرتبہ انسانوں کے ہاتھوں نے اُس کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور پھر وہ عجل سامری کی طرح جلایا گیا اور پھر عجل سامری کی طرح دریا میں ڈالا گیا ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو کچھ اُس سامری گوسالہ کے ساتھ ہوا وہ سب کچھ لیکھرام کے ساتھ ہوا۔ یہاں تک کہ خدا نے چاہا کہ عید کا دن اور شنبہ کا روز بھی گوسالہ سامری کی طرح لیکھرام کے حصے میں آوے۔ پس ایک دانا اور زیرک کے لئے یہی پیشگوئی عجل جسد لہ خوارکی اِس بات کے سمجھنے کے لئے کافی تھی کہ لیکھرام کس دن اور کس تقریب پر فوت ہوگا اور اس کی موت کس طور سے ہوگی۔ لیکن خدا تعالیٰ نے موٹی عقل والوں پر رحم کرکے دُوسرے الہامات میں اور بھی اس پیشگوئی کی تفصیل اور تشریح کردی اور صریح لفظوں میں بتا دیا کہ موت بذریعہ قتل ہوگی اور عید سے ایک دن پہلے *یہ واقعہ ہوگا۔ اِس جگہ یاد رہے کہ اِس پیشگوئی میں بعض اور لطیف اشارات بھی ہیں جو اس جگہ ذِکر کرنے کے لائق ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ سامری نے اپنی دستکاری کے گوسالہ کو قوم کے سامنے مقدس کرکے ظاہر کیا تھا۔ اور اُس کا یہ ہنر بتلایا تھا کہ یہ باوجود بے جان ہونے کے بیل کی طرح آواز کرتا ہے اور اس کی آواز کے سبب یہ مشہور کیا تھا کہ گویا جبرائیل کے قدموں کی خاک اس کے پیٹ میں ہے اور اُس برکت سے وہ بیل کی طرح آواز نکالتا ہے۔ مگر دراصل یہ تمام اُس کا جھوٹ تھا۔ اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جیسے آج کل بعض کھلونے ایسے بنائے جاتے ہیں کہ ہوا کے اندر اور باہر آنے سے اُن میں سے ایک آواز نکلتی ہے یا جیسے بعض زمیندار اپنے کھیتوں پر چمڑہ کا ایک ڈھول سا بنا لیتے ہیں اور اُس میں سے بھیڑیئے کے مشابہ ایک آواز نکلتی ہے ایسا ہی یہ بھی ایک کھلونا تھا اور قوم کو دھوکہ دینے کے لئے اور نیز اس گوسالہ کو ایک
* کاتب کی غلطی معلوم ہوتی ہے ’’ پہلے ‘‘ کی بجائے لفظ ’’ بعد‘‘ ہونا چاہئے۔( شمس