کہا کہ تو عید کے دِن کو پہچانے گا جبکہ نشانؔ ظاہر ہوگا او ر عید کا دِن نِشان کے دِن سے بہت قریب اور ساتھ ملا ہوا ہوگا۔ اِس پیشگوئی کے سمجھنے میں ہندو اخباروں سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ گویا یہ خبردی گئی ہے کہ لیکھرام عید کے دن قتل ہوگا حالانکہ شعر مذکور میں صاف یہ فقرہ ہے کہ عید اُس دن سے اقرب ہوگی۔ یعنی بہت نزدیک ہوگی اور اُس دن میں اور عید کے دن میں کوئی فاصلہ نہیں ہوگا اور ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ عید یکم شوال کو جمعہ کے روز ہوئی اور لیکھرام دوسری شوال کو ہفتہ کے دِن ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ ء میں مارا گیا۔ اسی کے مطابق جو الہامی شعر میں مندرج تھا کہ لیکھرام کے مارے جانے کا دن عید کے دن کے ساتھ ملا ہوا ہوگا اور درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوگا۔ اور الہامی شعر سے ظاہر ہے کہ اِس شعر میں صاف لفظوں میں بیان کردیا گیا تھا کہ دوسری شوال کو ہفتہ کے دن لیکھرام قتل کیا جائے گا اور درحقیقت یہ تمام بیان اجمالی طور پر اِس پیشگوئی میں موجود تھا کہ عجل جسد لہ خوار کیونکہ گوسالہ سامری ہاتھوں سے کاٹا گیاتھا۔ پس چونکہ مشبہ او ر مشبہ بہٖ میں واقعات کا تماثل ضروری ہے۔ اِس لئے ماننا پڑا کہ لیکھرام جس کو عجل سامری سے مشابہت دی گئی ہے ہاتھوں سے کاٹا جائے اور چونکہ عجل سامری کے کاٹے جانے کا دِن شنبہ کا دِن تھا اور یہودیوں کی ایک عید بھی تھی۔ لہٰذا پیشگوئی کی مشابہت کے پورا کرنے کے لحاظ سے ضروری ہوا کہ اِس واقعہ کے قریب ایک عید ہو اور شنبہ کا دِن بھی ہو۔ سو یہ پیشگوئی اس ضرورت مماثلت کی وجہ سے ان تمام واقعات کی طرف سے اشارہ کر رہی تھی جو گوسالہ سامری کو پیش آئی تھی یہاں تک کہ جیسا کہ گوسالہ سامری ٹکڑے ٹکڑے کرکے جلایا گیا تھا ایسا ہی لیکھرام کے ساتھ معاملہ ہوا کیونکہ اوّل قاتل نے اُس کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا پھر ڈاکٹر نے اُس کے زخم کو