لیکھرام کے قتل کے وقت زور دیا تھا اور گورنمنٹ میں اِس کو پیش کیا تھا اور یہ شور مچایا تھا کہ اگر اس پیشگوئی کرنے والے کی واقعہ قتل لیکھرام میں سازش نہیں ہے تو کیوں اور کِن وسائل سے اطلاع پاکر لیکھرام کے مارے جانے سے چار برس پہلے اس شخص نے مشہور کیا کہ وہ عید کے دِن مارا جائے گا اور وہ شعر یہ ہے ۔ جو کراماتُ الصَّادِقین کے صفحہ ۵۴ میں درج ہے۔ وَبشّرنی ربّی وقال مُبشّرا ستعرف یَوم العید و العید اقرب یعنی میرے خدا نے ایک پیشگوئی کے پورا ہونے کی مجھے خوشخبری د ی اور خوشخبری دے کر ہوچکی تھی۔ لہٰذا اِس ہندو ایڈیٹر نے کسی قدر غلطی کے ساتھ اس شعر کی پیشگوئی کو یاد رکھا اور پھر جب لیکھرام قتل کیا گیا تو گورنمنٹ عادلہ کے اکسانے کے لئے پیش کردیا۔ اِس شعر میں جو لفظ ستعرف یوم العید ہے بعض نادانوں نے اِس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اِس میں پیشگوئی کا تو کچھ ذِکر نہیں صرف عید کے دِن کا ذِکر ہے۔ لیکن سخت افسوس ہے کہ اگر ان کو کچھ بھی عربی کا علم ہوتا تو ایسا نہ کہتے کیونکہ پہلے مصرع میں صاف لکھا ہے کہ وبشّرنی ربّی ۔ اور یہ لفظ ہمیشہ پیشگوئی کے لئے آتا ہے۔ ماسوا اِس کے اگر عید کے لفظ سے معمولی عید کا دِن ہی مراد ہو تو یہ معنے ہوں گے کہ تجھے عید کے دِن کے آنے کی پیش از وقت تیرا ربّ خوشخبری دیتا ہے اور جب عید آئے گی تو تُو اُس کو پہچان لے گا اور عید عید کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی۔ اب دیکھو کہ اِن معنوں میں کس قدر بیہودہ باتیں اور مفاسد جمع ہیں۔ اوّل عید کی نسبت جو ایک معمولی دِن ہے پیشگوئی کرنا۔ اور پھر اِس معمولی عید میں کونسی باریک حقیقت ہے جس کے پہچاننے کی ضرورت ہوگی وہ تو پہلے ہی پہچانا ہوا دِن ہے۔ اور پھر اس کے کیامعنے کہ عید عید کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی۔ ملنے کا لفظ تو متغائر چیزوں کو چاہتا ہے جن کا مقابلہ دِکھلانا ضروری ہے۔ اب جبکہ عید ایک ہی چیز ہے تو دوسری چیز کونسی ہوئی جس کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ منہ