اے کہ گوئی گر دعاہا را اثر بودے کجاست
سوئے من بشتاب بنمایم ترا چوں آفتاب
ہاں مکن انکار زیں اسرار قدرتہائے حق
قصہ کوتہ کن بہ بیں ازما دعائے مستجاب*
دیکھو صفحہ ۲۔ ۳ ۔ ۴ سرورق رسالہ برکات الدعا ۔ ‘‘
اب یہ بھی جاننا چاہیئے کہ اِس پیشگوئی کی وضاحت صرف اِس حد تک ہی نہیں کہ اِس میں لیکھرام کی موت کی خبردی گئی اور نیز یہ بھی کہا گیا کہ معمولی بیماریوں کے ذریعہ سے موت نہیں ہوگی بلکہ ہیبت ناک نشان کے ساتھ موت ہوگی اور تیغ برّان کے ذریعہ سے موت ہوگی۔ بلکہ اِس کے ساتھ کی ایک دوسری پیشگوئی میں موت کا دِن اور تاریخ بھی بتلائی گئی ہے۔ جیسا کہ میری کتاب کرامات الصّادقین کے صفحہ ۴ ۵ میں اِسی بارے میں ایک عربی شعر ہے جو قریباً چار سال واقعہ قتل لیکھرام سے پہلے رسالہ مذکورہ میں چھپ کر تمام قوموں میں شائع ہوچکا ہے۔ یہ وہی شعر ہے جس پر ہندو اخباروں زنے
اس شعر میں سید احمد خاں صاحب کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ آپ جو اس بات سے منکر ہیں
جو دُعائیں قبول ہوتی ہیں یہ آپ کا خیال سراسر غلط ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ میں نے دعا کی ہے کہ لیکھرام قتل کی موت سے چھ۶ برس کے اندر مارا جاوے اورخدا نے مجھے اطلاع دیدی ہے کہ وہ دعا قبول ہوگئی ہے اور نیز یہ کہ سید احمد خاں اخیر نتیجہ تک زندہ رہ کر بچشم خود دیکھ لے گا کہ دُعا کے مطابق لیکھرام چھ۶ برس کے اندر قتل کیا گیا۔ چنانچہ سید احمد خاں صاحب فوت نہ ہوئے جب تک کہ چھ مارچ ۱۸۹۷ ء آگیا جس میں شنبہ کے دِن لیکھرام مارا گیا ۔ منہ
ز پرچہ اخبار سماچار میں جو ایک ہندو پرچہ ہے لکھا ہے کہ ہمارا ماتھا تو اُسی وقت ٹھنکا تھا جب
مصنّف موعودمسیحی نے اپنی کتاب میں عام اعلان کیا تھا کہ لیکھرام عید کو مارا جائے گا۔ دیکھو پرچہ اخبار سماچار صفحہ لیکن یاد رہے کہ اِس ایڈیٹر نے اِس بیان میں غلطی کھائی ہے کہ ہم نے لیکھرام کے قتل کئے جانے کے لئے عید کا دن پیشگوئی کے رُو سے بتلایا تھا بلکہ جیسا کہ اِس شعر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو ہم نے متن میں لکھ دیا ہے عید کے بعد کا دن شعر میں بتلایا گیا تھا۔ چونکہ اِس شعر کی پیشگوئی کو صدہا لوگوں پر زبانی طور پر ظاہر کیا گیا تھا اِس لئے ہندوؤں میں بھی اِس کی شہرت