پھر جب یقینی اور قطعی طور پر یہ امر فیصلہ پاگیا کہ میری دعا کے قبول ہونے پر آسمان پر یہ قرار پاچکا ہے کہ لیکھرام ایک دردناک عذاب کے ساتھ قتل کیا جائے گا تومیں نے اسی کتاب برکات الدعا کے صفحہ ۲۸ میں سید احمد خاں صاحب کے سی۔ ایس ۔ آئی کو مخاطب کرکے چند شعروں میں اُن پر ظاہر کیا کہ اگر دعا کے قبول ہونے میں آپ کو شک ہے تو آپ منتظر رہیں کہ جو لیکھرام کی نسبت میں نے دعا کی ہے کس طور پر اس کی قبولیت ظاہر ہوتی ہے۔ اور میں نے اس کتاب برکات الدعا کے صفحہ ۲ و ۳ و ۴کی طرف اُن کو توجہ دلائی۔ اور شعر کے نیچے ان صفحات کے نشان لکھ دیئے ۔ چنانچہ وہ اشعار یہ ہیں:۔ رُوئے دلبر از طلبگاراں نمی دارد حجاب می درخشد درخورو می تابد اندر ماہتاب لیکن آں رُوئے حسیں از غافلاں ماند نہاں عاشقے باید کہ بردارند از بہرش نقاب دامنِ پاکش ز نخوتہا نمی آید بدست ہیچ راہے نیست غیر از عجز و درد و اضطراب بسؔ خطرناک است راہ کوچ ۂ یار قدیم جاں سلامت بایدت از خود ر ویہاسر بتاب تاکلامش فہم و عقل ناسزایاں کم رسد ہرکہ ازخودگم شود او یابد آں راہِ صواب مشکلِ قرآں نہ از ابناءِ دُنیا حل شود ذوق آں میداند آں مستے کہ نوشدآں شراب اے کہ آگاہی ندا د ندت ز انوارِ دروں در حقِ ما ہرچہ گوئی نیستی جائے عتاب ازسرِوعظ و نصیحت ایں سخنہا گفتہ ایم تامگرزیں مرہمے بہ گردد آں زخمِ خراب ازدُعاکن چارہء آزار انکارِ دُعا چوں علاجِ مے زمے وقتِ خمار والتہاب بدیں عمر میداشت طبعے درشت نہ انساں کہ دستِ خدایش بکشت غرض فرشتہ جو یکشنبہ کی صبح میں خونی آنکھوں کے ساتھ نظر آیا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ شنبہ کو لیکھرام کو قتل کرکے یکشنبہ کو اپنی خونی آنکھیں دُنیا کو دِکھائے گا یعنی یکشنبہ کی صبح ہوتے ہی عام طور پر شور پڑ جائے گا کہ لیکھرام مقتول ہونے کی حالت میں اِس دنیا سے گذر گیا۔ منہ