حاشیہ پر وہ خبر درج ہے اور وہ یہ ہے:۔ ’’ لیکھرام پشاوری کی نسبت ایک اور خبر آج جو۲؍ اپریل ۱۸۹۳ ؁ء مطابق ۱۴؍ ماہ رمضان ۱۳۱۰ ؁ھ ہے صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اُس کے چہرہ پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ میں نے نظر اُٹھاکر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خِلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں۔ ملائک شدّاد غِلاظ میں سے ہے اور اُس کی ہیبت دِلوں پر طاری تھی اور میں اُس کو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے *تب میں نے اُس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرا م اور اُس دوسرے شخص کی سزادہی کے لئے مامور کیا گیا ہے۔ مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے۔ ہاں یہ یقینی طورپر یاد رہا ہے کہ وہ دوسرا شخص اُنہی چند آدمیوں سے تھا جن کی نسبت میں اشتہار دے چکا ہوں اور یہ یکشنبہ کا دن اور ۴ بجے صبح کا وقت تھازفالحمد للّٰہ علٰی ذالک‘‘۔ *یہ اب تک معلوم نہیں کہ یہ شخص کون ہے۔ منہ ز یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اتوار کے دن لوگ صبح کو اُٹھتے ہی کہیں گے کہ اب لیکھرام دنیا میں کہاں ہے کیونکہ شنبہ کو لیکھرام مقتول ہوکر اور آتشِ سوزاں سے خاکستر ہوکر بے نام ونشان رہ جائے گا اور یکشنبہ کو اُس کی زندگی کا تمام قصہ خواب و خیال ہو جائے گا۔ حریفے کہ درشنبہ میداشت جاں بیک شنبہ ازوے نماند نشاں کجاہست امروز آں لیکھرام بیک شنبہ گویند ہر خاص و عام