اور ایم اے تک پہنچے ہوئے ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ یہؔ نو تعلیم یافتہ لوگوں کا گروہ صداقتوں کو بڑے شوق سے قبول کرتا جاتا ہے اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایک نو مسلم اور تعلیم یافتہ یوریشین انگریزوں کا گروہ جن کی سکونت مدراس کے احاطہ میں ہے ہماری جماعت میں شامل او رتمام صداقتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے وہ تمام باتیں لکھ دی ہیں جو ایک خدا ترس آدمی کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔ آریوں کا اختیار ہے کہ میرے اِس مضمون پر بھی اپنی طرف سے جس طرح چاہیں حاشیے چڑھائیں مجھے اِس بات پر کچھ بھی نظر نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس وقت اِس پیشگوئی کی تعریف کرنا یا مذمت کرنا دونوں برابر ہیں اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ اُسی کی طرف سے ہے تو ضرور ہیبت ناک نشان کے ساتھ اس کا وقوعہ ہوگا اور دلوں کو ہلا دے گا۔ اور اگر اُس کی طرف سے نہیں تو پھر میری ذلت ظاہر ہوگی اور اگر میں اُس وقت رکیک تاویلیں کروں گا تو یہ اور بھی ذلّت کا موجب ہوگا۔ وہ ہستی قدیم اور وہ پاک و قدوس جو تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہ کاذب کو کبھی عزت نہیں دیتا۔ یہ بالکل غلط بات ہے کہ لیکھرام سے مجھ کو کوئی ذاتی عداوت ہے مجھ کو ذاتی طور پر کسی سے بھی عداوت نہیں بلکہ اس شخص نے سچائی سے دشمنی کی اور ایک ایسے کامل اور مقدس کو جو تمام سچائیوں کا چشمہ تھا توہین سے یاد کیا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے ایک پیارے کی دنیا میں عزت ظاہر کرے۔ والسّلام علٰی من ا تّبع الھدٰی‘‘۔
پھر عین اسی وقت میں جبکہ میں انیس ہند میرٹھ کے اعتراض کا جواب لکھ رہا تھا رات کے وقت دوبارہ لیکھرام کے قتل کئے جانے کی مجھے خبر دی گئی ۔ چنانچہ اسی برکات الدعا کے اخیری صفحہ ٹائٹل پیج کے