کی طرف سے* ۔اور معترض کا یہ کہنا کہ ’’ ایسی پیشگوئیوں کا اب زمانہ نہیں ہے‘‘ ایک معمولی فقرہ ہے جو اکثر لوگ مُنہ سے بول دیا کرتے ہیں میری دانست میں تو مضبوط اور کامل صداقتوں کے قبول کرنے کے لئے یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ شاید اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کوئی بھی نہ مل سکے۔ ہاں اِس زمانہ سے کوئی فریب مخفی نہیں رہ سکتا۔ مگر یہ تو راستبازوں کے لئے اور بھی خوشی کا مقام ہے کیونکہ جو شخص فریب اور سچ میں فرق کرنا جانتا ہے وہی سچائی کی دل سے عزت کرتا ہے اور بخوشی اور دوڑ کر سچائی کو قبول کر لیتا ہے اور سچائی میں کچھ ایسی کشش ہوتی ہے کہ وہ آپ قبول کرا لیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ زمانہ صدہا ایسی نئی باتوں کو قبول کرتا جاتا ہے جو لوگوں کے باپ دادوں نے قبول نہیں کی تھیں۔ اگر زمانہ صداقتوں کا پیاسا نہیں تو پھر کیوں ایک عظیم الشان انقلاب اس میں شروع ہے۔ زمانہ بیشک حقیقی صداقتوں کا دوست ہے نہ دشمن اور یہ کہنا کہ زمانہ عقلمند ہے اور سیدھے سادے لوگوں کا وقت گذر گیا ہے یہ دوسرے لفظوں میں زمانہ کی مذ ّ مت ہے۔ گویا یہ زمانہ ایک ایسا بد زمانہ ہے کہ وہ سچائی کو واقعی طور پر سچائی پاکر پھر اس کو قبول نہیں کرتا۔ لیکن میں ہرگز قبول نہیں کروں گا کہ فی الواقع ایسا ہی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ زیادہ ترمیری طرف رجوع کرنے والے اور مجھ سے فائدہ اُٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو نو تعلیم یافتہ ہیں جو بعض اُن میں سے بی اے * یہ حق اور باطل کامقابلہ لیکھرام کی اُس پیشگوئی سے جو اُس نے میری نسبت کی تھی بڑی صفائی سے ظاہر ہوگیا ہے کیونکہ لیکھرام نے میری نسبت ۱۸۹۲ ؁ عیسوی میں یہ اشتہار دیا تھا کہ یہ شخص تین۳ برس کے عرصہ میں ہیضہ سے مر جائے گا سو مُدّت ہوئی کہ اُس کی پیشگوئی کی میعاد گذر گئی اور میں بفضلہ تعالیٰ زندہ سلامت موجود ہوں مگر میری پیشگوئی نے جس کی چھ۶ سال کی میعاد تھی ایسے وقت میں اُس کو اجل کا پیالہ پلا دیا کہ ابھی اڑھائی سال پیشگوئی میں سے باقی تھے۔ منہ