پیشگوئی کی گئی ہے کہ وہ چھ ۶برس کے اندر ہلاک کیاجائے گا۔ لیکن اس الہام کے بعد بھی متعصب طبیعتوں کاشورکم نہ ہوااور اُنہو ں نے کہا کہ ہمیشہ لوگ بیماریوں سے مرتے ہی ہیں اور صحت بھی پاتے ہیں یہ کچھ پیشگوئی نہیں اور ظلم کی راہ سے یہ خیال نہ کیا کہ بے شک موت کا سلسلہ جاری تو ہے مگر یہ کسی انسان کے اختیار میں نہیں کہ کسی کی موت کے لئے کوئی تاریخ اور مدّت مقرر کرسکے مگر پھر بھی متعصب اخباروں نے شور مچایا کہ یہ پیشگوئی گول مول ہے اور ہر چند سمجھایا گیا کہ اب تو الہام کے ذریعہ سے صریح لفظوں میں موت کی خبر دی گئی مگر وہ ظلم کی راہ سے لوگوں کو دھوکے دیتے رہے اور کہتے رہے کہ موت کاسلسلہ بھی تو اِنسانوں کے لئے جاری ہے۔ اِس میں ہیبت ناک نِشان کونسا ہے۔چنانچہ انیس ہند میرٹھ نے جو ہندوؤں کی طرف سے میرٹھ میں ایک اخبار نکلتا ہے اپنے پرچہ ۲۵ ؍ مارچ ۱۸۹۳ ء میں یہی اعتراض کیا اور یہ لکھا کہ ایسی پیشگوئی مفید نہیں ہوگی اور اِس میں شبہات باقی رہ جائیں گے۔ مگر چونکہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متواتر الہامات سے بخوبی سمجھا دیا تھا کہ اِس پیشگوئی سے موت ہی مراد ہے اور موت بھی قتل کی موت اور ہیبت ناک موت۔ اِس لئے میں نے ایڈیٹر انیس ہند میرٹھ کو بھی وہ دندان شکن جواب دیا جس کو میں نے اپنے رسالہ برکات الدعا کے ٹائٹل پیج کے صفحوں میں اُنہی دنوں میں پیشگوئی کے وقوع سے قریبًا پانچ سال پہلے شائع کر دیا ہے۔ میں مناسب دیکھتا ہوں کہ وہ جواب جو قتل لیکھرام سے ایک زمانہ دراز پہلے میرے رسالہ برکات الدعا کے ٹائٹل پیج پر چھپ کر