شائع ہوچکاہے اِ س جگہ اُس رسالہ میں سے نقل کردوں۔ سو وہ یہ ہے۔ نمونہ دُعائے مستجاب انیس ہند میرٹھ اور ہماری پیشگوئی پر اعتراض ’’ اِسؔ اخبار کا پرچہ مطبوعہ ۲۵؍ مارچ ۱۸۹۳ ؁ء جس میں میری اس پیشگوئی کی نسبت جو لیکھرام پشاوری کے بارے میںَ میں نے شائع کی تھی کچھ نکتہ چینی ہے مجھ کو ملا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض اور اخباروں پر بھی یہ کلمۃ الحق شاق گذرا ہے اور حقیقت میں میرے لئے خوشی کامقام ہے کہ یوں خود مخالفوں کے ہاتھوں اس کی شہرت اور اشاعت ہو رہی ہے۔ سو میں اِس وقت اِس نکتہ چینی کے جواب میں صرف اس قدر لکھنا کافی سمجھتا ہوں کہ جس طور اور طریق سے خدا تعالیٰ نے چاہا اسی طور سے کیا میرا اس میں دخل نہیں۔ ہاں یہ سوال کہ ایسی پیشگوئی مفید نہیں ہوگی اور اس میں شبہات باقی رہ جائیں گے اس اعتراض کی نسبت میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ پیش از وقت ہے۔ میں اِس بات کا خود اقراری ہوں اور اب پھر اقرار کرتا ہوں کہ اگر جیسا کہ معترضوں نے خیال فرمایا ہے پیشگوئی کا ماحصل آخر کار یہی نکلا کہ کوئی معمولی تپ آیا یا معمولی طور پرکوئی درد ہوا یاہیضہ ہوا اور پھر اصلی حالت صحت کی قائم ہوگئی تو وہ پیشگوئی متصور نہیں ہوگی اور بلاشُبہ مکراور فریب ہوگا کیونکہ ایسی بیماریوں سے تو کوئی بھی خالی نہیں۔ ہم سب کبھی نہ کبھی بیمار ہو جاتے ہیں۔ پس اِس صورت میں بلاشبہ میں اُس سزا کے لائق ٹھہروں گا جس کا ذکر میں نے کیا ہے ۔ لیکن اگر پیشگوئی کا ظہور اُس طور سے ہوا کہ جس میں قہر الٰہی کے