بھیجی گئی تھی کہ یہ موت کی پیشگوئی جو لیکھرام کی نسبت قریباً پانچ سال اُس کے قتل ہونے سے پہلے کی گئی تھی اور لاکھوں اِنسانوں میں مشہور ہوچکی تھی اس میں بار بار اشتہارات کے ذریعہ سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ یہ موت کسی معمولی بیماری سے نہیں ہوگی بلکہ ضرور ایک ہیبت ناک نشان کے ساتھ یعنی زخم کے ساتھ اُس کا وقوعہ ہوگا اور دلوں کو ہلادے گا*۔ اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کیسے صاف الفاظ میں بتلا رہی ہے کہ خدا نے قطعی طور پر ارادہ کیا ہے کہ لیکھرام کو چھ برس کی مُدت تک ہولناک طرز میں ہلاک کرے۔ اِس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ جب پہلی پیشگوئی جس میں نصب اور عذاب کا لفظ ہے کی گئی تو نادان مخالفوں نے یہ اعتراض کرنا شروع کیاکہ عذاب کی پیشگوئی کیا حقیقت رکھتی ہے عذاب تو دردِ سر سے بھی ہوسکتا ہے۔ اور ہرچند زبانی تقریروں میں اُنہیں کہا گیا کہ اِس جگہ عذاب سے مراد موت ہی ہے جیسا کہ نصب کا لفظ دلالت کررہا ہے مگر اُنہوں نے نہایت تعصب سے اعتراض کرنا نہ چھوڑا۔ قرآن شریف کے موقع پیش کئے گئے جہاں نو ح کی قوم کی نسبت اور لُوط کی قوم کی نسبت اور فرعون کی قوم کی نسبت عذاب کا ذکر تھا جس سے صریح موت مراد تھی۔ تب بھی اُنہوں نے نہ مانا۔ آخر خدا تعالیٰ کی جناب میں توجہ کی گئی کہ وہ ایک کھلے کھلے الہام سے لیکھرام کی موت سے مطلع فرماوے۔ تب خدا تعالیٰ نے وہ الہام عطا فرمایا جو اوپر لکھا گیا ہے جس میں عربی عبارت میں بکمال تشریح و تفصیل لیکھرام کی موت کی نسبت * یہ عبارت جو رسالہ برکات الدعا کے اخیر صفحہ میں ہے کہ اِس پیشگوئی کانشان دلوں کو ہلا دے گا اس کے یہ معنے ہیں کہ اُس وقت بہت شور اُٹھے گا اور پیشگوئی خوفناک صورت میں ناگہانی طور پر خلافِ اُمید ظاہر ہوگی جس سے دل کانپ جائیں گے۔ یعنی لیکھرام کی موت دہشت ناک اور ڈراؤنی صورت پر واقعہ ہوگی جس سے یکدفعہ غوغا برپا ہو جائے گا اوردلوں پر چوٹ پہنچے گی۔ منہ