خدا کی کلام قرآن شریف کو بھی مورد اعتراض ٹھہراتا ہے۔ اب ہم باقی الہامات کو جو اِس پیشگوئی کے لئے بطور تشریح ہیں ذیل میں لکھتے ہیں اور ناظرین سے توقع رکھتے ہیں جو وہ غور سے سوچیں اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کی تکذیب کرکے باز پرس کا نشانہ نہ بنیں۔ واضح ہوکہ پیشگوئی مذکورہ بالا کی تفصیل اور تشریح کے لئے ایک اور الہام ہے جو لیکھرام کی موت سے قریباً پانچ سال پہلے شائع کیا گیا۔ چنانچہ وہ میرے رسالہ کرامات الصادقین کے اخیر میں یعنی ٹائٹل پیج کے اخیر صفحہ پر آٹھویں سطر میں درج ہے اور وہ عبارت جس میں الہام مذکور ہے یہ ہے۔ ومنھا ما و عدَنی ربّی واستجاب دعائی فی رجل مفسد عدوّاللّٰہ ورسُولہ المسمّی لیکھرام الفشاوری واخبرنی انّہ من الھالکین۔ انّہ کان یسبّ نبیّ اللّٰہ ویتکلّم فی شانہ بکلمات خبیثۃ۔ فدعوت علیہ فبشّرنی ربّی بموتہ فی ستّ سنۃ۔ انّ فی ذالک لاٰیۃ للطّالبین۔ یعنی میرے نشانوں میں سے جو خدا نے میری تائید میں ظاہر فرمائے وہ پیشگوئی ہے جو میری دعا قبول ہوکر ایک فساد انگیز شخص کی نسبت جو اللہ اور رسول کا دشمن تھا جس کانام لیکھرام تھا اور پشاور کے ضلع کا رہنے والا تھا مجھے بتلائی گئی اورخدا نے اُس کے بارے میں مجھے خبر دے کر مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ اُس کو ہلاؔ ک کرے گا۔ یہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا تھا اور اُس کی شان میں توہین کے الفاظ بولا کرتا تھا۔ پس میں نے اُس پر بد دعا کی اور خدا نے میری دعا قبول کرکے مجھے خوشخبری دی اور کہا کہ میں چھ برس کی میعاد میں لیکھرام کو ہلا ک کروں گا۔ اِس پیشگوئی میں اُن لوگوں کے لئے جو خدا کے طالب ہیں ایک بڑا نِشان ہے۔ فقط تما م ہندو اور مسلمان او رعیسائی برٹش انڈیا کے رہنے والے اِس بات کے گواہ ہیں اور خود گورنمنٹ بھی گواہ ہے جس کی خدمت میں یہ عربی پیشگوئی والی کتاب