لُوط کی قوم کے عذاب یا دوسری اُن قوموں کے عذاب سے مشابہ ہونا چاہیئے جو دنیا میں ہوئے جس عذاب سے وہ لوگ مرگئے نہ کہ جہنم کے عذاب سے جو اِس دنیا کے بعد ہوگا کس قدر تعصب ہے اور کیسے ہاتھ پیر مار رہے ہیں کہ کسی طرح خدا کے نشانوں کو خاک میں ملاویں سو چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ان لوگوں کے نفسِ امّارہ طرح طرح کی بیجا حجتیں پیش کریں گے تا خدا تعالیٰ کے ایک چمکتے ہوئے نِشان کو کسی طرح ٹال دیں ایسا نہ ہوکہ وہ اُن کے دِل میں اترے اور اُن کے سینہ کو خدا کی معرفت سے روشن کرے۔ اِس
لئے خدائے علیم و حکیم نے کئی دفعہ کئی الہاموں میں اِس پیشگوئی کو بیان فرمایا اور کھلے کھلے طور پر اِس کی تفہیم کراکر وہ عبارتیں میری کتاب میں درج کرائیں جو ابھی لکھ چکا ہوں۔
اب میں مناسب دیکھتاہوں کہ اِس جگہ اُن دوسرے الہامات اور کشوف کا بھی ذکر کروں جو اِسی پیشگوئی کی تفصیل اور تشریح میں بیان فرمائے گئے۔ مگر اِس قدر بیان کر دینا فائدہ سے خالی نہیں کہ ان لوگوں کا ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ جب ایک مرتبہ خدا تعالیٰ نے بیان فرمادیا تھا کہ لیکھرام پر نصب اور عذاب چھ برس تک نازل ہونے والا ہے تو دوسری پیشگوئیوں کی کیا ضرورت تھی۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ دوسری پیشگوئیاں اِس پیشگوئی کے لئے بطور تفصیل اور شرح کے ہیں تا نا دان معترض پر بکمال و تمام حجت پوری کی جائے۔ اور اگر یہ جائز نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بعض الہامات کو دوسرے الہامات سے تشریح فرماوے تو یہ اعتراض خود خدا تعالیٰ کی کتاب پر ہوگا کہ مثلاً جبکہ اُس نے سورہ اخلاص میں ایک مرتبہ فرما دیا تھا کہ 3 33 ۱ تو پھر کیا ضرور تھا کہ بار بار اِن مضامین کا قرآن شریف میں ذِکر کرتا اور ناحق اپنے کلام کو طول دیتا۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ یہ نادان فرقہ میری پیشگوئی پر اعتراض کرکے کس طرح