کنکریوں کے ذریعہ سے موت تھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کو عذاب ہوا وہ کیا تھا تلوار کے ذریعہ سے موت تھی۔ ایسا ہی بہت سی اُمتوں پر اُن کی کثرت گناہوں کے سبب سے عذاب ہوتے رہے وہ کیا تھے؟ سب موت تھی۔ کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ جو دُنیا میں انبیاء کے مخالفوں پر آسمان سے عذاب نازل ہوتے رہے وہ موت کی حد تک نہیں پہنچے تھے صرف ایسے تھے جیسے اُستاد بچوں کو جھڑکی دیتا ہے یا کوئی خفیف سی درد ہوجاتی ہے۔اللہ اللہ تعصب کِس قدر کمال کو پہنچ گیا ہے کہ میری دشمنی کے لئے اب نوح کی قوم کے عذاب اور لُوط کی قوم کے عذاب اور نمرود کی قوم کے عذاب اور عادو ثمود کے عذاب اور صالح نبی کی قوم کے عذاب اور حضرت موسیٰ کے دشمنوں پر جو عذاب نازل ہوئے اس کے یہی معنے کئے جاتے ہیں کہ وہ لوگؔ مرے نہیں تھے تا کسی طرح لیکھرام کی پیشگوئی کی تکذیب کی جائے۔ یہ لوگ تکذیب کے لئے ہر طرف ہاتھ پیر مار کر یہ عذر بھی پیش کرتے ہیں کہ جہنم میں جو عذاب ہوگا اُس میں کہاں موت ہے۔ اس کاجواب یہ ہے کہ تمام جہنمی اوّل موت کا ہی عذاب اُٹھاکر پھر جہنم تک پہنچتے ہیں۔ موت کے بغیر جہنم میں کون گیا۔ اور جہنم میں بھی موت ہوتی اگر خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ نہ ہوتا کہ پھر موت نہیں ہوگی۔ مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے جہنمیوں کو زندہ بھی نہیں کہا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ 333۱ ۔ یعنی جو شخص مجرم ہونے کی حالت میں مرے گا اُس کے لئے جہنم ہے کہ وہ اُس میں نہ مرے گا او ر نہ زندہ رہے گا۔ اب دیکھو کہ جہنمی کے واسطے زندگی بھی نہیں گو ابدی عذاب کے پورا کرنے کے لئے موت بھی نہیں۔ ماسوا اِس کے لیکھرام پر تو اسی دُنیا میں یہ عذاب کا وعدہ تھا نہ کہ آخرت میں پس یہ عذاب نوح کی قوم کے عذاب یا