قسم کو ہیبت ناک قسم بیان کیا گیا ہے جومعمولی موتوں سے نرالی ہے۔ اور خود لفظ نصب اور خوار کا بھی دلالت کرتا تھا کہ یہ موت بذریعہ قتل کے واقع ہوگی مگر تا ہم چونکہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ اِس پیشگوئی کو زیادہ سے زیادہ واضح کرے اِس لئے اُس حکیم مطلق نے صِرف اِس پیشگوئی پر ہی جس میں لفظ خوار اور نصب کاموجود ہے کفایت نہیں کی بلکہ اِس کی تشریح اور تفصیل کے لئے اور کئی الہامی پیشگوئیاں اِس کے ساتھ شامل کردیں جن کو ہم ابھی بیان کریں گے۔ مگر اس جگہ کمال افسوس سے لکھا جاتاہے کہ بعض نادانوں کا تعصب سے یہ حال ہوگیا ہے کہ اُنہوں نے اِس پیشگوئی کے معنوں کی طرف ذرہ توجہ نہیں کی اور نہ اُس شرح اور تفصیل کو دیکھا جو اس کے نیچے موجود ہے جس میں صاف لکھا ہے کہ یہ ایک خارق عادت اور ہیبت ناک نشان ہوگا نہ معمولی موت بلکہ اُنہوں نے کمال نا انصافی سے یہ اعتراض کردیا ہے کہ اِس پیشگوئی میں تو صرف عذاب کا لفظ ہے او ر عذاب سے موت مراد نہیں ہے لیکن اِن معترضین نے نادانی سے لفظ نصب کو جو قتل کی موت پر دلالت کرتا تھااور خوار کے لفظ کو جو اُس حالت پر دلالت کرتا تھا جبکہ مقتول کے مُنہ سے قتل کئے جانے کے وقت بیل کی طرح ایک آواز نکلتی ہے نظر انداز کردیا ہے۔ اور اگر فرض محال کے طور پر لفظ نصب اور خوار پیشگوئی میں نہ ہوتا اور صرف عذاب کا لفظ ہی ہوتا تب بھی وہ موت پر ہی دلالت کرتا تھا۔ کیونکہ جس قدر کامل عذابوں کے نمونے توریت اور قرآن شریف میں بیان فرمائے گئے ہیں وہ سب موت کے ساتھ تھے۔ نوح کی قوم کو عذاب ہوا وہ کیا تھا پانی کے ذریعہ سے موت تھی۔ لُوط کی قوم کو عذاب ہوا وہ کیا تھا پتھر برسانے سے موت تھی۔ اصحاب الفیل کی قوم کو عذاب ہوا وہ کیا تھا