جب انسان پر اِس لفظ کو استعمال کرتے ہیں تو اُس موقع پر کرتے ہیں جبکہ کوئی مقتول قتل ہونے کے وقت گوسالہ کی طرح آواز نکالتا ہے جیسا کہ اُسی لسان العرب میں خوار کے لفظ کے بیان میں صفحہ ۳۴۵ میں اِن معنوں کی تصدیق کے لئے ایک حدیث لکھی ہے اور وہ یہ ہے:۔ وفی حدیث مقتل اُبی بن خلف فخرّ یخور کما یخور الثو ر یعنی جب اُبیّ بن خلف قتل کیا گیا تو یوں آواز نکالتا تھا جیسا کہ بیل آواز نکالتا ہے اور کبھی خوار کا لفظ عرب کی زبان میں اُس ہتھیار کی آواز پر بولا جاتا ہے جو چلایا جاتا ہے۔ چنانچہ لسان العرب کے اُسی صفحہ ۳۴۵ میں ایک نامی شاعر عرب کا اِس محاورہ کے حوالہ میں ایک شعر لکھا ہے اور وہ یہ ہے:۔
یَخُرْنَ اِذَا اُنفذن فی سَاقِطِ النَّدٰی
وَاِنْ کَانَ یَوْمًا ذَا أَھَاضِیْبَ مُخْضِلا
یعنی اُن تیروں میں سے جو چلائے جاتے ہیں اور پھر نکالے جاتے ہیں گو سالہ کی آواز کی طرح ایک آواز آتی ہے۔ اگرچہ ایسا دن ہو جس میں متواتر بارش ہوئی ہو اور ہر ایک چیز کو تر کردیتا ہو۔ اور شعر میں جو لفظ ساقط النَّدٰی آیا ہے اِس کے یہ معنے ہیں کہ جو درختوں پر بارش ہوکر پھر درختوں پر جو کچھ پانی جمع ہوکر پھر وہ زمین پر پڑتا ہے اُس پانی کا نام ساقط ہے اور ندٰی جنگلی درختوں کو کہتے ہیں جن کو ہندی میں بَن کہتے ہیں۔ اور شاعر کا اِس جگہ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے تیروں کی صفائی اور استقامت اور اُن کی تیزی کی تعریف کرتا ہے کہ اُن میں سے چلانے اور پھیرنے کے وقت ایک آواز آتی ہے جیسا کہ گوسالہ کی آواز ہوتی ہے اور اگرچہ سخت جھڑی لگی ہوئی ہو اور متواتر بارشیں ہو رہی ہوں اُن تیروں کو بباعث عمدگی صنعت اور اچھے ہوؔ نے قسم لکڑی کے کوئی حرج نہیں پہنچتا۔ غرض اِس نہایت معتبر کتاب سے جو لسان العرب ہے ثابت ہوتا