ہے کہ خور اور خوار کے لفظ کو انسان پر اُس حالت میں بھی بولتے ہیں کہ جب وہ قتل ہونے کے وقت فریاد کرتاہے۔ اور قتل کرنے کے وقت جو ہتھیار کی آواز ہوتی ہے اُس کانام بھی خوار ہے۔ اور جیسا کہ ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی یعنی عجل جسدلہ خوار۔ لہ نصب وعذاب۔ اپنے ان دو لفظوں کے رُو سے جو خوار اور نصب ہے لیکھرام کے قتل ہونے پر دلالت کرتی ہے اسی کے موافق خدا تعالیٰ کی تفہیم سے ہم نے وہ اشعار اور نیزچند سطریں نثر کی لکھی ہیں جو کتاب آئینہ کمالاتِ اسلام کے پانچویں ضمیمہ میں درج ہیں جن پر نظر غور کرکے ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ اُن بیانات سے صاف واضح ہوتاہے کہ لیکھرام اپنی طبعی موت سے نہیں بلکہ بذریعہ قتل پیشگوئی کے مفہوم کے مطابق اِس جہان فانی سے کوچ کرے گا۔ چنانچہ اِس ضمیمہ کے صفحہ ۲ کی عبارت جو اس صورتِ موت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے :۔ ’’اب میں اِس پیشگوئی کو شائع کرکے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتاہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں (بیماریوں ) سے نرالا اور خارق عادت (یعنی طبعی موتوں سے جو عادت میں داخل ہیں الگ ہو)اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو (یعنی انسان سمجھ سکتا ہو کہ یہ ایک ناگہانی آفت ہے جو دِلوں پر ایک ڈرانے والا اثر کرتی ہے) تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اُس کی رُوح سے میرا یہ نطق ہے۔ اور اگر میں اِس پیشگوئی میں کاذب نکلا (یعنی اگر ہیبت ناک طور پر لیکھرام کی موت نہ ہوئی)