اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ اِذا ھلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہٗ ۔ یعنی جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو دُوسرا کسریٰ پیدا نہیں ہوگا جو ظلم اور جورو جفا میں اُس کا قائم مقام ہو۔ اِس حدیث سے استنباط ہوسکتا ہے کہ کسی بدزبان اور فحش گو اور دشمنِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرنے کے بعد جو کسی قوم میں ہو پھر ایسی ہی خصلت کا کوئی اور اِنسان اُس قوم کے لئے پیدا ہونا خیال محال ہے کیونکہ خدا ہمیشہ اپنے راستبازوں کی نسبت گالیاں اور گندہ زبانی سننا نہیں چاہتا۔ اب ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ لیکھرام والی پیشگوئی کس قدر انکشاف اور زور شور سے واقعہ قتل سے پانچ سال پہلے بتلائی گئی تھی۔ سو واضح ہو کہ جب لیکھرام نے نہایت اصرار کے ساتھ اپنی موت کے لئے مجھ سے پیشگوئی چاہی تو مجھے دُعا کے بعد یہ الہام ہوا ۔عجل جسدلہٗ خوار۔ لہ نصب وعذاب ۔ یعنی یہ ایک بے جان گو سالہ ہے جس میں مارے جانے کے وقت گوسالہ کی طرح ایک آواز نکلے گی اور اس میں جان نہیں اور اس کے لئے نصب اور عذاب ہے۔ لِسان العرب میں جو لُغتِ عرب میں ایک پرانی اور معتبرکتاب ہے لفظِ نصب کے معنے علاوہ اور کئی معنوں کے ایک یہ بھی لکھے ہیں کہ جب کہا جائے نصب فلان لفلان تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ کسی شخص نے اس شخص پر جان لینے کے لئے حملہ کیااور دشمنی کی راہ سے اس کے فنا کرنے کے لئے پوری پوری کوشش کی۔ چنانچہ لِسان العرب کے اس مقام میں اپنے لفظ یہ ہیں:۔ نصب فلان لفلان نصبًا اِذا قصدلہ وعاداہ وتجرّد لہ۔ جس کے یہی معنے ہیں جو اوپر کئے گئے۔ دیکھو لسان العرب لفظ نصب صفحہ ۲۵۸ سطر نمبر ۲۔ اور خوار کا لفظ لغتِ عرب میں گوسالہ کی آواز کے لئے آتا ہے۔ لیکن