سےؔ ہی قتل کئے جائیں گے۔ سو اگر ثبوت کچھ چیز ہے تو اس سے بڑھ کر عیسائیوں کے لئے اور کوئی ثبوت نہیں کہ مسیح اپنے منہ سے پیشگوئی کرتا ہے کہ ابھی تم میں سے بعض زندہ ہوں گے کہ میں پھر آؤں گا۔ یاد رہے کہ انجیلوں میں دو قسم کی پیشگوئیاں ہیں جو حضرت مسیح کے آنے کے متعلق ہیں۔ (۱) ایک وہ جو آخری زمانہ میں آنے کا وعدہ ہے وہ وعدہ روحانی طور پر ہے اور وہ آنا اسی قسم کا آنا ہے جیسا کہ ایلیا نبی مسیح کے وقت دوبارہ آیا تھا۔ سو وہ ہمارے اس زمانہ میں ایلیا کی طرح آچکا ہے اور وہ یہی راقم ہے جو خادم نوع انسان ہے جو مسیح موعود ہو کر مسیح علیہ السلام کے نام پر آیا۔ اور مسیح نے میری نسبت انجیل میں خبر دی ہے۔ سو مبارک وہ جو مسیح کی تعظیم کے لئے میرے باب میں دیانت اور انصاف سے غور کرے۔ اور ٹھوکر نہ کھاوے۔ (۲) دوسری قسم کی پیشگوئیاں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے متعلق انجیلوں میں پائی جاتی ہیں وہ درحقیقت مسیح کی اس زندگی کے ثبوت کے لئے بیان کی گئی ہیں جو صلیب کے بعد خدائے تعالیٰ کے فضل سے قائم اور بحال رہی اور صلیبی موت سے خدا نے اپنے برگزیدہ کو بچا لیا جیسا کہ یہ پیشگوئی جو ابھی بیان کی گئی۔ عیسائیوں کی یہ غلطی ہے کہ ان دونوں مقاموں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے بڑی گھبراہٹ اور طرح طرح کے مشکلات ان کو پیش آتے ہیں۔ غرض مسیح کے صلیب سے بچ جانے کے لئے یہ آیت جو متی ۱۶ باب میں پائی جاتی ہے بڑا ثبوت ہے۔ اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی مندرجہ ذیل آیت ہے۔ ’’اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا۔ اور اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے‘‘۔ دیکھو متی باب ۲۴ آیت ۳۰۔ اس آیت کا اصل مطلب یہ ہے کہ حضرتعیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ جبکہ آسمان سے