یعنیؔ محض خدا کی قدرت سے ایسے علوم اور دلائل اور شہادتیں پیدا ہو جائیں گی کہ جو آپ کی الوہیت یا صلیب پر فوت ہونے اور آسمان پر جانے اور دوبارہ آنے کے عقیدہ کا باطل ہونا ثابت کردیں گی۔ اور جو قومیں آپ کے نبی صادق ہونے کی منکر تھیں بلکہ صلیب دئیے جانے کی وجہ سے ان کو *** سمجھتی تھیں جیسا کہ یہود۔ ان کے جھوٹ پر بھی آسمان گواہی دے گا کیونکہ یہ حقیقت بخوبی کھل جائے گی کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے اس لئے *** بھی نہیں ہوئے تب زمین کی تمام قومیں جنہوں نے ان کے حق میں افراط یا تفریط کی تھی ماتم کریں گی اور اپنی غلطی کی وجہ سے سخت ندامت اور خجالت ان کے شامل حال ہوگی۔ اور اسی زمانہ میں جبکہ یہ حقیقت کھل جائے گی لوگ روحانی طور پر مسیح کو زمین پر نازل ہوتے دیکھیں گے۔ یعنی ان ہی دنوں میں مسیح موعود جو ان کی قوت اور طبیعت میں ہو کر آئے گا آسمانی تائید سے اور اس قدرت اور جلال سے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس کے شامل ہوگی اپنے چمکتے ہوئے ثبوت کے ساتھ ظاہر ہوگا اور پہچانا جائے گا۔ اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی قضا و قدر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایسا وجود ہے اور ایسے واقعات ہیں جو بعض قوموں نے ان کی نسبت افراط کیا ہے اور بعض نے تفریط کی راہ لی ہے۔ یعنی ایک وہ قوم ہے کہ جو انسانی لوازم سے ان کو دور تر لے گئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ اب تک وہ فوت نہیں ہوئے اور آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔ اور ان سے بڑھ کر وہ قوم ہے جو کہتے ہیں کہ صلیب پر فوت ہوکر اور پھر دوبارہ زندہ ہوکر آسمان پر چلے گئے ہیں اور خدائی کے تمام اختیار ان کو مل گئے ہیں بلکہ وہ خود خدا ہیں۔ اور دوسری قوم یہودی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر مارے گئے اس لئے نعوذ باللہ وہ ہمیشہ کے لئے *** ہوئے اور ہمیشہ کے لئے موردِ غضب۔ اور خدا اُن سے بیزار ہے اور بیزاری اور دشمنی کی نظر سے ان کو دیکھتا ہے
اور وہ کاذب اور مفتری اور نعوذ باللہ کافر اور ملحد ہیں اور خدا کی طرف سے نہیں ہیں۔ سو یہ
افراط اور تفریط ایسا ظلم سے بھرا ہوا طریق تھا کہ ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ اپنے سچے نبی کو ان