میں ؔ نے سید و مولیٰ اپنے امام نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی دفعہ عین بیداری میں دیکھا ہے اور باتیں کی ہیں۔اور ایسی صاف بیداری سے دیکھا ہے جس کے ساتھ خواب یا غفلت کا نام و نشان نہ تھا۔ اور میں نے بعض اور وفات یافتہ لوگوں سے بھی ان کی قبر پر یا اور موقعہ پر عین بیداری میں ملاقات کی ہے اور ان سے باتیں بھی کی ہیں۔ میں خوب جانتا ہوں کہ اس طرح پر عین بیداری میں گذشتہ لوگوں کی ملاقات ہوجاتی ہے اور نہ صرف ملاقات بلکہ گفتگو ہوتی ہے اور مصافحہ بھی ہوتا ہے اور اس بیداری اور روزمرہ کی بیداری میں لوازم حواس میں کچھ بھی فرق نہیں ہوتا۔ دیکھا جاتا ہے کہ ہم اسی عالم میں ہیں اور یہی کان ہیں اور یہی آنکھیں ہیں اور یہی زبان ہے۔ مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالم اور ہے۔ دنیا اس قسم کی بیداری کو نہیں جانتی کیونکہ دنیاغفلت کی زندگی میں پڑی ہے یہ بیداری آسمان سے ملتی ہے یہ ان کو دی جاتی ہے جن کو نئے حواس ملتے ہیں۔ یہ ایک صحیح بات ہے اور واقعات حقہ میں سے ہے پس اگر مسیح اسی طرح یروشلم کی بربادی کے وقت یوحنّا کو نظر آیا تھا تو گو وہ بیداری میں نظر آیا اور گو اس سے باتیں بھی کی ہوں اور مصافحہ کیا ہو تاہم وہ واقعہ اس پیشگوئی سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ وہ امور ہیں جو ہمیشہ دنیا میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اور اب بھی اگر ہم توجہ کریں تو خدا کے فضل سے مسیح کو یا اور کسی مقدس نبی کو عین بیداری میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسی ملاقات سے متی باب۱۶ آیت ۲۸ کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوسکتی۔ سو اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح جانتا تھا کہ میں صلیب سے بچ کر دوسرے ملک میں چلا جاؤں گا اور خدا نہ مجھے ہلاک کرے گا اور نہ دنیا سے اٹھائے گا جب تک کہ میں یہودیوں کی بربادی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں اور جب تک کہ وہ بادشاہت جو برگزیدوں کے لئے آسمان میں مقرر ہوتی ہے اپنے نتائج نہ دکھلاوے میں ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔ اس لئے مسیح نے یہ پیشگوئی کی تا اپنے شاگردوں کو اطمینان دے کہ عنقریب تم میرا یہ نشان دیکھو گے کہ جنہوں نے مجھ پر تلوار اٹھائی وہ میری زندگی اور میرے مشافہ میں تلواروں