کی طرف سے ایک مُدت تک اُس کو مہلت دیؔ گئی۔ لیکن چونکہ وہ اُس رجوع پر قائم نہ رہ سکا اور اُس نے شہادت کو چھپایا اِس لئے کچھ مہلت کے بعد جو اُس کے رُجوع کی وجہ سے تھی پکڑا گیا۔ اور اُس کا رجوع اُس کے اِس کلمہ سے معلوم ہوتا ہے جو صحیح بخاری کے صفحہ ۴ میں اِس طرح پر مذکور ہے۔ فان کان ما تقول حقّافسیملک موضع قدمی ھا تین۔ وقد کنتُ اعلم انّہ خارج ولم اکن اظنّ انّہٗ منکم۔ فلوانّی اعلم انّی اُخلص الیہ لتجشّمتُ لقاء ہ۔ ولوکنتُ عندہ لغسلتُ عن قدمیہ۔ اس عبارت کا ترجمہ کرنے سے پہلے یہ بات ہم یاد دلا دیتے ہیں کہ یہ واقعہ اُس وقت کا ہے جبکہ قیصر رُوم نے ابوسفیان کو جو تجارت کی تقریب سے مع اپنی ایک جماعت کے شام کے ملک میں وارد تھا اپنے پاس بلایا اور اُس وقت قیصر اپنے ملک کا سیر کرتا ہوا بیت المقدس میں یعنی یروشلم میںآیا ہوا تھا اور قیصر نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ابو سفیان سے جو اُس وقت کفر کی حالت میں تھا بہت سی باتیں پوچھیں۔ اور ابوسفیان نے اِس وجہ سے جو اُس دربار میں آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر بھی موجود تھا جو تبلیغ اِسلام کا خط لے کر قیصر روم کی طرف آیا تھا بجز راست گوئی کے چارہ نہ دیکھا کیونکہ قیصر نے اُن اُمور کے استفسار کے وقت کہہ دیا تھا کہ اگر یہ شخص واقعات کے بیان کرنے میں کچھ جھوٹ بولے تو اس کی تکذیب کرنی چاہیئے سو ابو سفیان نے پردہ دری کے خوف سے سچ سچ ہی کہہ دیا اور جس قدر قیصر نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کچھ حالات دریافت کئے تھے وہ سچائی کی پابندی سے بیان کر دیئے گو اُس کا دِل نہیں چاہتا تھا کہ صحیح طور پر بیان کرے مگر سر پر جو مکذبین موجود تھے وہ خوف دامنگیر ہوگیا اور جھوٹ بولنے میں اپنی رسوائی کا اندیشہ ہوا جب وہ سب کچھ قیصر