رُوم کے رُوبرو بیان کرچکا تو اُس وقت قیصر نے وہ کلام کہا جو مندرجہ بالاعربی عبارت میں مذکور ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر یہ باتیں سچ ہیں جو تو کہتا ہے تووہ نبی جو تم میں پیدا ہوا ہے عنقریب وہ اِس جگہ کا مالک ہو جائے گا جس جگہ یہ میرے دونوں قدم ہیں اور قیصر نجوم کے علم میں بہت دسترس رکھتا تھا۔ اِس علم کے ذریعے سے بھی اُس کو معلوم ہوا کہ یہ وہی مظفر اور منصور نبی ہے جس کا توریت اور انجیل میں وعدہ دیا گیا ہے۔ اور پھر اُس نے کہا کہ مجھے تو معلوم تھا کہ وہ نبی عنقریب نکلنے والا ہے مگر مجھے یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے نکلے گا اور اگر میں جانتا کہ میں اُس تک پہنچ سکتا ہوں تو میں کوشش کرتا کہ اُس کو دیکھوں ۔ اور اگر میں اُس کے پاس ہوتا تو اپنے لئے یہ خدمت اختیار کرتا کہ اُس کے پیر دھویا کروں۔ فقط یہ وہ جواب ہے جو قیصر نے خط کے پڑھنے کے بعد دیا یعنی اُس خط کے پڑھنے کے بعد جس میں قیصر کو اُس کی تباہی اور ہلاکت کی شرطی دھمکی دی گئی تھی اور گو قیصر نے اَسلم تَسلم کی شرط کو جو خط میں تھی پورے طور پر ادا نہ کیا اور عیسائی جماعت سے علیحدہ نہ ہوا لیکن تاہم اُس کی تقریر مذکورہ بالا سے پایاجاتا ہے کہ اُس نے کسی قدر اِسلام کی طرف رجوع کیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اُس کو مہلت دی گئی۔ اور اُس کی سلطنت پر بکلی تباہی نہیں آئی اور نہ وہ جلد تر ہلاک ہوا۔ اب جب ہم ڈپٹی آتھم کے حال کو قیصر رُوم کے حال کے ساتھ مقابل رکھ کر دیکھتے ہیں تو وہ دونوں حال ایک دوسرے سے ایسے مشابہ پائے جاتے ہیں کہ گویا آتھم قیصر ہے یا قیصر آتھم ہے۔ کیونکہ ان دونوں نے شرطی پیشگوئی پر کسی حد تک عمل کرلیا اس لئے خدا کے رحم نے رفق اور آہستگی کے ساتھ ان سے معاملہ کیا اور اُن دونوں کی عمر کو کسی قدر مہلت دے دی۔ مگر چونکہ وہ دونوں خدا کے نزدیک اخفائے شہادت کے مجرم ٹھہر گئے تھے اور آتھم کی طرح قیصر نے بھی گواہی کو