بلاتا ہوں۔ اسلام میں داخل ہوجا کہ اگر تونے یہ دین قبول کرلیا تو پھر سلامت رہے گا اور بے وقت کی موت اور تباہی تیرے پر نہیں آئے گی اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر موت اور ہاویہ درپیش ہے اور اگر تو نے اسلام کو قبول کرلیا تو خدا تجھے دو اجر دے گا۔ یعنی ایک یہ کہ تو نے مسیح علیہ السلام کو قبول کیا اور دوسرا یہ اجر ملے گا کہ تو نبی آخر الزمان پر ایمان لایا لیکن اگر تو نے منہ پھیر ا اور اسلام کو قبول نہ کیا تو یاد رکھ کہ تیرے ارکان اور مصاحبین اور تیری رعیّت کا گناہ بھی تیری ہی گردن پر ہوگا ۔ اے اہل کتاب ! ایک ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو تم میں اور ہم میں برابر ہے یعنی دونوں تعلیمیں انجیل اور قرآن کی اس پر گواہی دیتی ہیں اور دونوں فرقوں کے نزدیک وہ مسلّم ہے کسی کو اِس میں اختلاف نہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم محض اُسی خدا کی پرستش کریں جو واحد لاشریک ہے اور کسی چیز کو اُس کے ساتھ شریک نہ کریں نہ کسی انسان کو نہ کسی فرشتہ کو نہ چاند کو نہ سورج کو نہ ہوا کو نہ آگ کو نہ کسی اور چیز کو اور ہم میں سے بعض خدا کو چھوڑ کر اپنے جیسے دوسروں کو خدا اور پروردگارنہ بنالیں اور خدا نے ہمیں کہا ہے کہ اگر اس حکم کو سن کر یہ لوگ باز نہ آویں اور اپنے مصنوعی خداؤں سے دست بردار نہ ہوں تو پھر ان کو کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم خدا کے اس حکم پر قائم ہیں کہ پرستش اور اطاعت کے لئے اُسی کے آستانہ پرگردن رکھنی چاہیئے اور وہ اسلام جس کو تم نے قبول نہ کیا ہم اُس کو قبول کرتے ہیں۔ یہ خط تھا جو ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کی طرف لکھا تھا اور اُس کو قطعی طورپر ہلاکت او رتباہی کا وعدہ نہیں دیا بلکہ اُس کی سلامتی اور ناسلامتی کے لئے شرطی وعدہ تھا۔ اور صحیح بخاری کے اسی صفحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی قدر قیصر روم نے حق کی طرف رجوع کرلیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ