اور عیسائی گواہ ہیں بلکہ ہماری گورنمنٹ محسنہ بھی اِس نشان کی گواہ ہے۔ اللہ اللہ یہ کیسا دہشت ناک اور ہیبت ناک نشان ظاہر ہوا جس نے آنکھوں والوں کو خدا کا چہرہ دکھا دیا اور شاہِ ایران اور خسرو پر ویز اور اُس کے قتل کئے جانے کا واقعہ جو ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی بنا پر ظہور میں آیا تھا اِس زندہ نشان سے دوبارہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔ واضح ہوکہ ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بڑے نشان تھے جو ایک اُن میں سے آتھم کے قصہ سے مشابہ اور دوسرا لیکھرام کے ماجرا سے مماثلت رکھتا تھا۔ اِس مجمل بیان کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ صحیح بخاری کے صفحہ ۵ میں مذکور ہے ۔ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط دعوتِ اسلام کا قیصر رُوم کی طرف لکھا تھا اور اُس کی عبارت جو صفحہ مذکورہ بخاری میں مندرج ہے یہ تھی۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰن الرَّحیمْ۔ من محمدٍ عبد اللّٰہ ورسُولہ الٰی ھرقل عظیم الرّوم۔ سلام علی من اتبع الھدیٰ۔ امّا بعد فانّی ادعوک بدعایۃ الاسلام اَسلِم تَسْلِم یؤتک اللّٰہ اجرک مرّتین۔ فان تولّیت فانّ علیک اثم الیریسیین۔ ویا اھل الکتاب تعالوا الٰی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللّٰہ ولا نشرک بہٖ شیءًا ولا یتّخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دُون اللّٰہ فان تولّوا فقولوا اشھدوا باَ نّا مسلمون۔ یعنی یہ خط محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو خدا کا بندہ اور اُس کا رسول ہے روم کے سردار ہرقل کی طرف ہے۔ سلام اُس پر جو ہدایت کی راہوں کی پیروی کرے اور اس کے بعد تجھے معلوم ہوکہ میں دعوتِ اسلام کی طرف تجھے بلاتا ہوں یعنی وہ مذہب جس کا نام اِسلام ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ انسان خدا کے آگے اپنی گردن رکھ دے اور اُس کی عظمت اور جلال کے پھیلانے کے لئے اور اُس کے بندوں کی ہمدردی کے لئے کھڑا ہو جائے اِس کی طرف میں تجھے