کوئی معجزہ نہیں ہوا تب کس قدر سچے مومنوں کے دِلوں پر صدمہ پہنچتا تھا اور گو نقول اور اخبار سے جواب دیا جاتا تھا مگر متعصب دشمن کب مانتا تھا اور اب وہ زمانہ ہے کہ کوئی پادری ہمارے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا اور خدا تعالیٰ کے نشان اِس طرح نازل ہو رہے ہیں جیسا کہ برسات کی بارش۔ پس یہ شکر کا مقام تھا نہ یہ کہ سب سے پہلے آپ ہی انکار کرنا شروع کردیں۔ یہ کس قدر فخر کی بات تھی کہ اب بھی اسلام میں صاحبِ خوارق اور نشان موجود ہیں اوردوسری قوموں میں موجود نہیں ذرہ سوچیں کہ یہ تمام کارروائی اِسلام کے لئے تھی یا کسی اور مطلب کے لئے۔ اب اِسلام میرے ظہور کے بعد اُ س بلندی کے مینار پر ہے کہ جس کے مقابل پر تمام ملتیں نشیب میں پڑی ہیں کیونکہ زندہ مذہب وہی ہوتا ہے جو اپنے ساتھ تازہ بتازہ نشان رکھتا ہے۔ وہ مذہب نہیں بلکہ پرانے قصوں کا مجموعہ ہے جس کے ساتھ زندہ نشان نہیں ہیں۔ پس یہ کس قدر خوشی کی بات ہے کہ اب اسلامی وجاہت میرے ظہور سے ایک اعلیٰ درجہ کی ترقی پر ہے۔ اُس کا نور دشمن کو نزدیک آنے نہیں دیتا۔ کیا اِس میں شک ہے کہ جو اس سے پہلے اسلامی نشانوں کا ذکر کیا جاتا تھا وہ دشمنوں کی نظر میں صرف دعوے کے رنگ میں تھا۔اب وہ آفتاب کی طرح چمک رہا ہے او رہرایک واعظ اپنے ارادوں میں میری طرف سے امداد پارہا ہے اور میرے نیک اِرادوںؔ کو خدا کی مد د ہر دم سہارا دے رہی ہے۔ اب ہم دشمن کو صرف ایک بات میں گرا سکتے ہیں کہ اُس کا مذہب مردہ اور نشانوں سے خالی ہے اور اب ہر ایک مسلمان زندہ اور موجود نشان دِکھلا سکتا ہے اور پہلے ایسا نہیں تھا ۔ خوشی کرو اور اُچھلو کہ یہ اسلام کے اقبال کے دِن ہیں۔
۶۶ اور منجملہ ہیبت ناک اور عظیم الشان نشانوں کے پنڈت لیکھرام کی موت کا نشان ہے جس کے وقوع کے نہ ایک نہ دو بلکہ برٹش انڈیا کے تمام ہندو اور مسلمان