پیشگوئی کے اثر نے اُس کونہ چھوڑا لیکن افسوس کہ ہمارے علماء کے دِل نے نہ مانا کہ خدا کے نشان کو قبول کریں۔ اب بھی مناسب ہے کہ وہ اِس کتاب کو غور سے پڑھیں اور ایک محققانہ دِل اور دماغ لے کر ذرہ سوچیں کہ اب ان ثبوتوں کے بعد پیشگوئی کی سچائی میں کونسی کسر باقی ہے۔ کیا ہمارے ذمہ کوئی بارثبوت ہے جس سے ہم سبکدوش نہیں ہوئے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم نے اپنے دعوے کو بہت سے ثبوتوں سے مدلل کرکے دِکھلا دیا ہے مگر آتھم نے حق پوشی کے لئے جو دعویٰ کیا تھا کہ میں تین حملوں سے ڈرا نہ پیشگوئی سے اِس دعوے سے وہ سبکدوش نہیں ہوا یہاں تک کہ فوت ہوگیا۔ عزیزو!اب جوانمردی اور تقویٰ کی راہ سے حق کو قبول کرو۔ اور مجھے اِس بات سے بہت مسرت ہے کہ بعض مولوی صاحبان اب تو بہ نامے بھیج رہے ہیں اور جنگ کے اشتہار صلح کے عرائض سے بدل رہے ہیں۔ اکثر ناہموار طبیعتیں صاف اور سیدھی سڑکوں کی طرح بنتی جاتی ہیں اور دِلوں کے ویران اور سنسان جنگل واد ئ کشمیر کی طرح گل و گلزار سے بھرتے جاتے ہیں۔ ناقابلیت اور سستی کی مرض کم ہوتی جاتی ہے اور جو کچھ پہلے دنوں میں اُن پرمشکل تھا اب وہ آسان ہوتا جاتا ہے۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک سیدھی طبیعت کے لئے یہ راہ صاف اور کشادہ ہے کہ مجھے اور میرے نشانوں کو بآسانی قبول کرلیں جبکہ وہ اپنے گذشتہ اولیاء کے ایسے خوارق قبول کرتے ہیں کہ جن کے بارے میں اُن کے ہاتھ میں کوئی کافی ثبوت نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسے نشانوں کے قبول کرنے کے لئے ایک لشکر جرّار کی طرح اُن کے سامنے کھڑے ہیں اور ایک دوسرے پر اپنے ثبوت اورصفائی کی روشنی ڈال رہے ہیں۔ کسی قسم کی روک اُن کو پیش آوے بلکہ اُن کے لئے نہایت خوشی کا یہ موقع ہے کہ یہ دن اُنہوں نے دیکھا۔ اُس زمانہ کو ابھی کچھ بہت عرصہ نہیں ہوا کہ جب ایک پادری بازار میں کھڑا ہوکر اعتراض کرتا تھا کہ نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے