نالش سے دست برداری سے اور اپنے اقرار سے کہ ایّام پیشگوئی میں مَیں ڈرتا رہا ہوں اور اپنی عاداتِ سابقہ کو یک لخت چھوڑنے سے ثابت کردیا ہے کہ اُس نے الہامی پیشگوئی کے سننے کے بعد ضرور اپنی مخالفانہ عادات اور مذہبی مخالفت سے اور ایسا ہی ہر ایک قسم کی بے باکی اور گستاخی اور بدزبانی سے ضرور رجوع کیا تھا اور نہ صرف رجوع بلکہ دِل اُس کا خوف سے بھر گیا اور اُس کا آرام جاتاؔ رہا۔ یہ ہماری طرف سے صرف دعویٰ نہیں بلکہ یہ وہ باتیں ہیں جن میں سے بعض کا اُس نے خود اقرار کیا اور بعض کو پبلک نے بچشم خود دیکھ لیا اور بعض اُس کے عملی حالات سے معلوم ہوگئیں۔ مگر یہ عجیب حیرت کا مقام ہے کہ باوجود اتنی وضاحت اور اس قدر قرائن اور اس قدر صاف شہادتوں کے پھر بھی ہمارے مخالف مولویوں اور اُن کے پیروؤں نے اِس پیشگوئی کا انکار کر ہی دیا۔ چاہیئے تھا کہ وہ اِس نشان پر جوعلمی معارف بھی ساتھ رکھتا تھا جس سے ایک پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہوتی تھی اور جس کے بغیر لیکھرام والا نشان صرف ایک آنکھ کی طرح رہ جاتا تھا اور اُن دو نشانوں کی ترتیب بگڑتی تھی جو جمالی اور جلالی رنگ میں صفاتِ الٰہیہ کا پورا چہرہ دِکھلاتے تھے حد سے زیادہ بلکہ زیادہ سے زیادہ خوشی مناتے اور آسمانی نشان کا قدر کرتے اور سوجاکھوں کی طرح الہامی شرط کو دیکھتے اور آتھم کے قول اور فعل میں اس کا ثبوت پاکر خوشی سے اُچھلتے۔ یہ ایک تھوڑی بات نہیں تھی کہ اس پیشگوئی اور لیکھرام والی پیشگوئی کو ایک دوسرے کے مقابل پر رکھ کر ایک طالب حق کو تجلیات الہٰیہ کی معرفت حاصل ہوتی تھی کہ گویا اِس آئینہ سے خدا نظر آجاتا تھا اور جمالی اورجلالی قدرت کے اسرار کھلتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ اِس پیشگوئی کی تاثیر نے آتھم کی سرشت اور عادت پر کس قدر فوق العادت اثر ڈالا یہاں تک کہ اس کے سننے کے بعد آتھم آتھم نہ رہا اور گو اُس کو ایک قلیل مہلت ملی مگر پھر بھی