دعا ؔ کی۔ اور پھر جبکہ خدا پنے پیارے بندوں کی ضرور سنتا ہے اور شریروں کے مشورہ کو باطل کر کے دکھاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ مسیح کی دعا نہیں سنی گئی۔ ہر ایک صادق کا تجربہ ہے کہ بیقراری اور مظلومانہ حالت کی دعا قبول ہوتی ہے۔ بلکہ صادق کے لئے مصیبت کا وقت نشان ظاہر کرنے کا وقت ہوتا ہے چنانچہ میں خود اس میں صاحبِ تجربہ ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ دو برس کا عرصہ ہوا ہے کہ مجھ پر ایک جھوٹا مقدمہ اقدامِ قتل کا ایک صاحب ڈاکٹر مارٹن کلارک عیسائی مقیم امرت سر پنجاب نے عدالت ضلع گورداسپور ہ میں دائر کیا اور یہ استغاثہ پیش کیا کہ گویا میں نے ایک شخص عبد الحمید نامی کو بھیج کر ڈاکٹر مذکور کو قتل کرنا چاہا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ اس مقدمہ میں تینوں قوم کے چند منصوبہ باز آدمی یعنی عیسائی اور ہندو اور مسلمان میرے مخالف متفق ہوگئے اور جہاں تک ان سے ہوسکتا تھا یہ کوشش کی کہ مجھ پر اقدامِ قتل کا الزام ثابت ہوجائے۔ عیسائی پادری مجھ سے اس وجہ سے ناراض تھے کہ میں اس کوشش میں تھا اور اب بھی ہوں کہ مسیح کی نسبت جو ان کا غلط خیال ہے اس سے خدا کے بندوں کو نجات دوں اور یہ اول نمونہ تھا جو میں نے ان لوگوں کا دیکھا۔ اور ہندو مجھ سے اس وجہ سے ناراض تھے کہ میں نے لیکھرام نامی ان کے ایک پنڈت کی نسبت اس کی رضامندی سے اس کے مرنے کی نسبت خدا کا الہام پاکر پیشگوئی کی تھی اور وہ پیشگوئی اپنی میعاد میں اپنے وقت پر پوری ہوگئی اور وہ خدا کا ایک ہیبت ناک نشان تھا اور ایسا ہی مسلمان مولوی بھی ناراض تھے کیونکہ میں ان کے خونی مہدی اور خونی مسیح کے آنے سے اور نیز ان کے جہاد کے مسئلہ کا مخالف تھا۔ لہٰذا ان تین قوموں کے بعض سربرآوردہ لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ کسی طرح قتل کا جرم میرے پر لگ جائے اور میں مارا جاؤں یا قید کیا جاؤں۔ اور ان خیالات میں وہ خداتعالیٰ کی نظر میں ظالم تھے۔ اور خدا نے مجھے اس گھڑی سے پہلے کہ ایسے منصوبے مخفی طور پر کئے جائیں اطلاع دے دی۔ اور پھر انجام کار بَری کرنے کی مجھے خوشخبری سنائی۔ اور یہ خدا کے پاک الہام صدہا لوگوں میں قبل از وقت مشہور کئے گئے اور جبکہ