انؔ دونوں مقامات انجیل سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح کو خود دلی یقین تھا کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی اور میرا تمام رات کا رو رو کر دعا کرنا ضائع نہیں جائے گا اور خود اس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے شاگردوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ اگر دعا کرو گے تو قبول کی جائے گی۔ بلکہ ایک مثال کے طور پر ایک قاضی کی کہانی بھی بیان کی تھی کہ جو نہ خلقت سے اور نہ خدا سے ڈرتا تھا۔ اور اس کہانی سے بھی مدعا یہ تھا کہ تا حواریوں کو یقین آجائے کہ بے شک خدائے تعالیٰ دعا سنتا ہے۔ اور اگرچہ مسیح کو اپنے پر ایک بڑی مصیبت کے آنے کا خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم تھا۔ مگر مسیح نے عارفوں کی طرح اس بنا پر دعا کی کہ خدائے تعالیٰ کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور ہر ایک محو و اثبات اس کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا یہ واقعہ کہ نعوذ باللہ مسیح کی خود دعا قبول نہ ہوئی یہ ایک ایسا امر ہے جو شاگردوں پر نہایت بداثر پیدا کرنے والا تھا۔ سو کیونکر ممکن تھا کہ ایسا نمونہ جو ایمان کو ضائع کرنے والا تھا حواریوں کو دیا جاتا جبکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مسیح جیسے بزرگ نبی کی تمام رات کی پُرسوز دعا قبول نہ ہوسکی تو اس بد نمونہ سے ان کا ایمان ایک سخت امتحان میں پڑتا تھا۔ لہٰذا خدائے تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس دعا کو قبول کرتا یقیناًسمجھو کہ وہ دعا جو گتسمینی نام مقام میں کی گئی تھی ضرور قبول ہوگئی تھی۔ ایک اور بات اس جگہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسا کہ مسیح کے قتل کے لئے مشورہ ہوا تھا اور اس غرض کے لئے قوم کے بزرگ اور معزز مولوی قیافا نامی سردار کاہن کے گھر میں اکٹھے ہوئے تھے کہ کسی طرح مسیح کو قتل کردیں یہی مشورہ حضرت موسیٰ کے قتل کرنے کے لئے ہوا تھا۔ اور یہی مشورہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے لئے مکّہ میں دارالندوہ کے مقام میں ہوا تھا۔ مگر قادر خدا نے ان دونوں بزرگ نبیوں کو اس مشورہ کے بداثر سے بچا لیا۔ اور مسیح کے لئے جو مشورہ ہوا ان دونوں مشوروں کے درمیان میں ہے۔ پھر کیا وجہ کہ وہ بچایا نہ گیا حالانکہ اس نے ان دونوں بزرگ نبیوں سے بہت زیادہ