میںؔ نے الہام کی خبر پاکر دعا کی کہ اے میرے مولیٰ اس بلا کو مجھ سے ردّ کر۔ تب مجھے الہام ہوا کہ میں ردّ کروں گا اور تجھے اس مقدمہ سے بری کردوں گا اور وہ الہام بہتوں کو سنایا گیا جو تین سو سے بھی زیادہ تھے جو اب تک زندہ موجود ہیں۔ اور ایسا ہوا کہ میرے دشمنوں نے جھوٹے گواہ بنا کر اور عدالت میں گذران کر اس مقدمہ کو ثبوت تک پہنچا دیا اور تین قوموں کے لوگوں نے جن کا ذکر ہوچکا ہے میرے مخالف گواہی دی۔ تب ایسا ہوا کہ جس حاکم کے پاس وہ مقدمہ تھا جس کا نام کپتان ڈبلیو ڈگلس تھا جو ضلع گورداسپورہ کا ڈپٹی کمشنر تھا خدا نے طرح طرح کے اسباب سے تمام حقیقت اس مقدمہ کی اس پر کھول دی۔ اور اس پر کھل گیا کہ وہ مقدمہ جھوٹا ہے۔ تب اس کی انصاف پسندی اور عدل پروری نے یہ تقاضا کیا کہ اس ڈاکٹر کا جو پادری کا بھی کام کرتا تھا کچھ بھی لحاظ نہ کرکے اس مقدمہ کو خارج کیا۔ اور جیسا کہ میں نے خدائے تعالیٰ سے الہام پاکر موجودہ خوفناک صورتوں کے برخلاف عام جلسوں میں اور صدہا لوگوں میں اپنا انجام بری ہونا بتلایا تھا ویسا ہی ظہور میں آیا اور بہت سے لوگوں کی قوت ایمان کا باعث ہوا۔ اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی اس قسم کی کئی تہمتیں اور مجرمانہ صورت کے الزام میرے پر مذکورہ بالا وجوہات کی وجہ سے لگائے گئے اور عدالت تک مقدمے پہنچائے گئے۔ مگر خدا نے مجھے قبل اس کے جو میں عدالت میں بلایا جاتا اپنے الہام سے اول اورآخر کی خبر دے دی۔ اور ہر ایک خوفناک مقدمہ میں مجھے بَری ہونے کی بشارت دی۔
اس تقریر سے مدعا یہ ہے کہ بلا شبہ خدائے تعالیٰ دعاؤں کو سنتا ہے بالخصوص جبکہ اس پر بھروسہ کرنے والے مظلوم ہونے کی حالت میں اس کے آستانہ پر گرتے ہیں تو وہ ان کی فریاد کو پہنچتا ہے اور ایک عجیب طور پر ان کی مدد کرتا ہے اور ہم اس بات کے گواہ ہیں تو پھر کیا باعث اور کیا سبب کہ مسیح کی ایسی بے قراری کی دعا منظور نہ ہوئی؟ نہیں بلکہ منظور ہوئی اور خدا نے اس کو بچا لیا۔ خدا نے اس کے بچانے کے لئے زمین سے بھی اسباب پیدا کئے اور آسمان سے بھی۔ یوحنا یعنییحییٰ نبی کو خدا نے دعا کرنے کے لئے