نےؔ ان دونوں کو کافر قرار دیا اور ان دونوں کا نام ملحد اور دجال رکھا اور ان دونوں کی نسبت قتل کے فتوے لکھے گئے اور دونوں کو عدالتوں کی طرف کھینچا گیا جن میں سے ایک رومی عدالت تھی اور دوسری انگریزی۔آخر دونوں بچائے گئے اور دونوں قسم کے مولوی یہودی اور مسلمان ناکام رہے۔ اور خدا نے ارادہ کیا کہ دونوں مسیحوں کو ایک بڑی جماعت بناوے اور دونوں قسم کے دشمنوں کو نامراد رکھے۔ غرض موسیٰ کی چودھویں صدی اور ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چودھویں صدی اپنے اپنے مسیحوں کے لئے سخت بھی ہیں اور انجام کار مبارک بھی۔ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب ۲۶ میں یعنی آیت ۳۶ سے آیت ۴۶ تک مرقوم ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار کئے جانے کا الہام پاکر تمام رات جنابِ الٰہی میں رو رو کر اور سجدے کرتے ہوئے دعا کرتے رہے۔ اور ضرور تھا کہ ایسی تضرع کی دعا جس کے لئے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا قبول کی جاتی کیونکہ مقبول کا سوال جو بے قراری کے وقت کا سوال ہو ہرگز ردّ نہیں ہوتا۔ پھر کیوں مسیح کی ساری رات کی دعا اور دردمند دل کی دعا اور مظلومانہ حالت کی دعا ردّ ہوگئی۔ حالانکہ مسیح دعویٰ کرتا ہے کہ باپ جو آسمان پر ہے میری سنتا ہے۔ پس کیونکر باور کیا جائے کہ خدا اس کی سنتا تھا جبکہ ایسی بے قراری کی دعا سنی نہ گئی۔ اور انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دلی یقین تھا کہ اس کی وہ دعا ضرور قبول ہوگئی اور اس دعا پر اس کو بہت بھروسہ تھا۔ اسی وجہ سے جب وہ پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا اور ظاہری علامات کو اس نے اپنی امید کے موافق نہ پایا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا کہ ’’ایلی ایلی لما سبقتانی‘‘ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔ یعنی مجھے یہ امید ہرگز نہیں تھی کہ میرا انجام یہ ہوگااور میں صلیب پر مروں گا۔ اور میں یقین رکھتا تھا کہ تو میری دعا سنے گا۔ پس