غافلؔ کردیا گیا۔ مگر چوروں کی ہڈیاں توڑ کر اسی وقت ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا گیا۔ بات تو تب تھی کہ ان دونوں چوروں میں سے بھی کسی کی نسبت کہا جاتا کہ یہ مرچکا ہے اس کی ہڈیاں توڑنے کی ضرورت نہیں۔ اور یوسف نام پلاطوس کا ایک معزز دوست تھا جو اس نواح کا رئیس تھا اور مسیح کے پوشیدہ شاگردوں میں داخل تھا وہ عین وقت پر پہنچ گیا۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی پلاطوس کے اشارہ سے بلایا گیا تھا۔ مسیح کو ایک لاش قرار دے کر اس کے سپرد کر دیا گیا کیونکہ وہ ایک بڑا آدمی تھا اور یہودی اس کے ساتھ کچھ پرخاش نہیں کر سکتے تھے۔ جب وہ پہنچا تو مسیح کو جو غشی میں تھا ایک لاش قرار دے کر اس نے لیا اور اسی جگہ ایک وسیع مکان تھا جو اس زمانہ کی رسم پر قبر کے طور پر بنایا گیا تھا اور اس میں ایک کھڑکی بھی تھی اور ایسے موقع پر تھا جو یہودیوں کے تعلق سے الگ تھا اسی جگہ پلاطوس کے اشارہ سے مسیح کو رکھا گیا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کہ حضرت موسیٰ کی وفات پر چودھویں صدی گذر رہی تھی اور اسرائیلی شریعت کے زندہ کرنے کے لئے مسیح چودھویں صدی کا مجدد تھا۔ اور اگرچہ یہودیوں کو اس چودھویں صدی میں مسیح موعود کا انتظار بھی تھا اور گذشتہ نبیوں کی پیشگوئیاں بھی اس وقت پر گواہی دیتی تھیں۔ لیکن افسوس کہ یہودیوں کے نالائق مولویوں نے اس وقت اور موسم کو شناخت نہ کیا اور مسیح موعود کو جھوٹا قرار دے دیا۔ نہ صرف یہی بلکہ اس کو کافر قرار دیا اس کا نام ملحد رکھا اور آخر اس کے قتل پر فتویٰ لکھا اور اس کو عدالت میں کھینچا۔ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ خدا نے چودھویں صدی میں کچھ تاثیر ہی ایسی رکھی ہے جس میں قوم کے دل سخت اور مولوی دنیا پرست اور اندھے اور حق کے دشمن ہوجاتے ہیں۔ اس جگہ اگر موسیٰ کی چودھویں صدی اور موسیٰ کے مثیل کی چودھویں صدی کا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں باہم مقابلہ کیا جائے تو اول یہ نظر آئے گا کہ ان دونوں چودھویں صدیوں میں دو ایسے شخص ہیں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور وہ دعویٰ سچا تھا اور خدا کی طرف سے تھا۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوگا کہ قوم کے علماء