کیونکہ ؔ یہودی مسیح کو باغی ٹھہراتے تھے مگر وہ خوش قسمت تھا کہ اس نے مسیح کو دیکھا۔ لیکن قیصر نے اس نعمت کو نہ پایا۔ اس نے نہ صرف دیکھا بلکہ بہت رعایت کی اور اس کا ہرگز منشاء نہ تھا کہ مسیح صلیب پاوے۔ چنانچہ انجیلوں کے دیکھنے سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ پلاطوس نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ مسیح کو چھوڑ دے۔ لیکن یہودیوں نے کہا کہ اگر تو اس مرد کو چھوڑ دیتا ہے تو تُو قیصر کا خیرخواہ نہیں اور یہ کہا کہ یہ باغی ہے اور خود بادشاہ بننا چاہتا ہے۔ دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۱۲۔ اور پلاطوس کی بیوی کی خواب اور بھی اس بات کی محرک ہوئی تھی کہ کسی طرح مسیح کو مصلوب ہونے سے بچایا جائے ورنہ ان کی اپنی تباہی ہے۔ مگر چونکہ یہودی ایک شریر قوم تھی اور پلاطوس پر قیصر کے حضورمیں مخبری کرنے کو بھی طیّار تھے۔ اس لئے پلاطوس نے مسیح کے چھڑانے میں حکمتِ عملی سے کام لیا۔ اول تو مسیح کا مصلوب ہونا ایسے دن پر ڈال دیا کہ وہ جمعہ کا دن تھا اور صرف چند گھنٹے دن سے باقی تھے۔ اور بڑے سبت کی رات قریب تھی اور پلاطوس خوب جانتا تھا کہ یہودی اپنی شریعت کے حکموں کے موافق صرف شام کے وقت تک ہی مسیح کو صلیب پر رکھ سکتے ہیں۔ اور پھر شام ہوتے ہی ان کا سبت ہے جس میں صلیب پر رکھنا روا نہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور مسیح شام سے پہلے صلیب پر سے اتارا گیا۔ اور یہ قریب قیاس نہیں کہ دونوں چور جو مسیح کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے وہ زندہ رہے۔ مگر مسیح صرف دو گھنٹہ تک مرگیا بلکہ یہ صرف ایک بہانہ تھا جو مسیح کو ہڈیاں توڑنے سے بچانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ سمجھ دار آدمی کے لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ دونوں چور صلیب پر سے زندہ اتارے گئے اور ہمیشہ معمول تھا کہ صلیب پر سے لوگ زندہ اتارے جاتے تھے اور صرف اس حالت میں مرتے تھے کہ ہڈیاں توڑی جائیں اور یا بھوک اور پیاس کی حالت میں چند روز صلیب پر رہ کر جان نکلتی تھی۔ مگر ان باتوں میں سے کوئی بات بھی مسیح کو پیش نہ آئی نہ وہ کئی دن صلیب پر بھوکا پیاسا رکھا گیا اور نہ اس کی ہڈیاں توڑی گئیں اور یہ کہہ کر کہ مسیح مرچکا ہے یہودیوں کو اس کی طرف سے