سےؔ محققین کے دل ایک عظیم الشان نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں پلاطس کا وہ قول ہے جو انجیل مرقس میں لکھا ہے۔ اور وہ یہ ہے۔ ’’اور جبکہ شام ہوئی اس لئے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے پہلے ہوتا۔ یوسف ارمتیا جو نامور مشیر اور وہ خود خدا کی بادشاہت کا منتظر تھا آیا اور دلیری سے پلاطس پاس جاکے یسوع کی لاش مانگی اور پلاطس نے متعجب ہو کر شبہ کیا کہ وہ یعنی مسیح ایسا جلد مرگیا‘‘۔ دیکھو مرقس باب *۱۶ آیت ۴۲ سے ۴۴ تک۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عین صلیب کی گھڑی میں ہی یسوع کے مرنے پر شبہ ہوا۔ اور شبہ بھی ایسے شخص نے کیا جس کو اس بات کا تجربہ تھا کہ اس قدر مدت میں صلیب پر جان نکلتی ہے۔ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں انجیل کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔ ’’پھر یہودیوں نے اس لحاظ سے کہ لاشیں سبت کے دن صلیب پر نہ رہ جائیں کیونکہ وہ دن طیاری کا تھا۔ بلکہ بڑا ہی سبت تھاپلاطوس سے عرض کی کہ ان کی ٹانگیں توڑی اور لاشیں اتاری جائیں۔ تب سپاہیوں نے آکر پہلے اور دوسرے کی ٹانگیں جو اس کے ساتھ صلیب پر کھینچے گئے تھے توڑیں لیکن جب انہوں نے یسوع کی طرف آکے دیکھا کہ وہ مرچکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں۔ پر سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے لہو اور پانی نکلا‘‘۔ دیکھو یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ سے آیت ۳۴ تک۔ ان آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کسی مصلوب کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے یہ دستور تھا کہ جو صلیب پر کھینچا گیا ہو اس کو کئی دن صلیب پر رکھتے تھے اور پھر اس کی ہڈیاں توڑتے تھے لیکن مسیح کی ہڈیاں دانستہ نہیں توڑی گئیں اور وہ ضرور صلیب پر سے ان دو چوروں کی طرح زندہ اتارا گیا۔ اسی وجہ سے پسلی چھیدنے سے خون بھی نکلا۔ مردہ کا خون جم جاتا ہے۔ اور اس جگہ یہ بھی صریح معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی طور پر یہ کچھ سازش کی بات تھی۔ پلاطوس ایک خداترس اور نیک دل آدمی تھا۔ کھلی کھلی رعایت سے قیصر سے ڈرتا تھا * ایڈیشن اول میں سہو ہے ۔درست باب ۱۵ ہے ناشر