اسیؔ طرح خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک تدبیر تھی کہ پلاطوس کی جورو کو مسیح کے لئے خواب آئی۔ اور ممکن نہ تھا کہ یہ تدبیر خطا جاتی اور جس طرح مصر کے قصہ میں مسیح کے مارے جانے کا اندیشہ ایک ایسا خیال ہے جو خدائے تعالیٰ کے ایک مقرر شدہ وعدہ کے برخلاف ہے۔ اسی طرح اس جگہ بھی یہ خلاف قیاس بات ہے کہ خدائے تعالیٰ کا فرشتہ پلاطوس کی جورو کو نظر آوے اور وہ اس ہدایت کی طرف اشارہ کرے کہ اگر مسیح صلیب پر فوت ہوگیا تو یہ تمہارے لئے اچھا نہ ہوگا تو پھر اس غرض سے فرشتہ کا ظاہر ہونا بے سود جاوے اور مسیح صلیب پر مارا جائے کیا اس کی دنیا میں کوئی نظیر ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہر ایک نیک دل انسان کا پاک کانشنس جب پلاطوس کی بیوی کے خواب پر اطلاع پائے گا تو بیشک وہ اپنے اندر اس شہادت کو محسوس کرے گا کہ درحقیقت اس خواب کا منشاء یہی تھا کہ مسیح کے چھڑانے کی ایک بنیاد ڈالی جائے۔ یوں تو دنیا میں ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنے عقیدہ کے تعصّب سے ایک کھلی کھلی سچائی کو ردّ کردے اور قبول نہ کرے۔ لیکن انصاف کے رو سے ماننا پڑتا ہے کہ پلاطوس کی بیوی کی خواب مسیح کے صلیب سے بچنے پر ایک بڑے وزن کی شہادت ہے۔ اور سب سے اول درجہ کی انجیل یعنی متی نے اس شہادت کو قلمبند کیا ہے۔ اگرچہ ایسی شہادتوں سے جو میں بڑے زور سے اس کتاب میں لکھوں گا مسیح کی خدائی اور مسئلہ کفّارہ یک لخت باطل ہوتا ہے لیکن ایمانداری اور حق پسندی کا ہمیشہ یہ تقاضا ہونا چاہئیے کہ ہم سچائی کے قبول کرنے میں قوم اور برادری اور عقائد رسمیّہ کی کچھ پرواہ نہ کریں۔ جب سے انسان پیدا ہوا ہے آج تک اس کی کوتہ اندیشیوں نے ہزاروں چیزوں کو خدا بنا ڈالا ہے۔ یہاں تک کہ بلیوں اور سانپوں کو بھی پوجا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی عقلمند لوگ خداداد توفیق سے اس قسم کے مشرکانہ عقیدوں سے نجات پاتے آئے ہیں۔ اور منجملہ اُن شہادتوں کے جو انجیل سے ہمیں مسیح ابن مریم کی صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر ملتی ہیں اس کا وہ سفر دور دراز ہے جو قبر سے نکل کر جلیل کی طرف اس نے