کا دؔ ن تھا اور صرف تھوڑا سا دن باقی تھا اور اگلے دن سبت اور یہودیوں کی عید فسح تھی اور یہودیوں کے لئے یہ حرام اور قابل سزا جرم تھا کہ کسی کو سبت یا سبت کی رات میں صلیب پر رہنے دیں اور مسلمانوں کی طرح یہودی بھی قمری حساب رکھتے تھے اور رات دن پر مقدم سمجھی جاتی تھی۔ پس ایک طرف تو یہ تقریب تھی کہ جو زمینی اسباب سے پیدا ہوئی۔ اور دوسری طرف آسمانی اسباب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پیدا ہوئے کہ جب چھٹا گھنٹہ ہوا تو ایک ایسی آندھی آئی کہ جس سے ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا اور وہ اندھیرا تین گھنٹے برابر رہا۔ دیکھو مرقس باب ۱۶ آیت ۳۳۔ یہ چھٹا گھنٹہ بارہ بجے کے بعد تھا۔ یعنی وہ وقت جو شام کے قریب ہوتا ہے۔ اب یہودیوں کو اس شدّت اندھیرے میں یہ فکر پڑی کہ مبادا سبت کی رات آجائے اور وہ سبت کے مجرم ہوکر تاوان کے لائق ٹھہریں۔ اس لئے انہوں نے جلدی سے مسیح کو اور اس کے ساتھ کے دو چوروں کو بھی صلیب پر سے اتار لیا۔ اور اس کے ساتھ ایک اور آسمانی سبب یہ پیدا ہوا کہ جب پلاطوس کچہری کی مسند پر بیٹھا تھا اس کی جورو نے اسے کہلا بھیجا کہ تو اس را ستباز سے کچھ کام نہ رکھ (یعنی اس کے قتل کرنے کے لئے سعی نہ کر) کیونکہ میں نے آج رات خواب میں اس کے سبب سے بہت تکلیف پائی دیکھو متی باب ۲۷ آیت ۱۹۔ سو یہ فرشتہ جو خواب میں پلاطس کی جورو کو دکھایا گیا۔ اس سے ہم اور ہر ایک منصف یقینی طور پر یہ سمجھے گا کہ خدا کا ہرگز یہ منشاء نہ تھا کہ مسیح صلیب پر وفات پاوے۔ جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی آج تک یہ کبھی نہ ہوا کہ جس شخص کے بچانے کے لئے خدائے تعالیٰ رؤیا میں کسی کو ترغیب دے کہ ایسا کرنا چاہئیے تو وہ بات خطا جائے۔ مثلاً انجیل متی میں لکھا ہے کہ خداوند کے ایک فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کے کہا ’’اٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کرمصر کو بھاگ جا اور وہاں جب تک میں تجھے خبر نہ دوں ٹھہرا رہ کیونکہ ہیرودوس اس لڑکے کو ڈھونڈے گا کہ مار ڈالے‘‘۔ دیکھو انجیل متی باب ۲ آیت ۱۳۔ اب کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ یسوع کا مصر میں پہنچ کر مارا جانا ممکن تھا