کیاؔ ۔ چنانچہ اتوار کی صبح کو پہلے وہ مریم مگدلینی کو ملا۔ مریم نے فی الفور حواریوں کو خبر کی کہ مسیح تو جیتا ہے لیکن وہ یقین نہ لائے پھر وہ حواریوں میں سے دو کو جبکہ وہ دیہات کی طرف جاتے تھے دکھائی دیا آخر وہ گیارہوں کو جبکہ وہ کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور ان کی بے ایمانی اور سخت دلی پر ملامت کی۔ دیکھو انجیل مرقس باب ۱۶ آیت ۹ سے آیت ۱۴ تک۔ اور جب مسیح کے حواری سفر کرتے ہوئے اس بستی کی طرف جارہے تھے جس کا نام املوس *ہے جو یروشلم سے پونے چارکوس کے فاصلے پر ہے تب مسیح ان کو ملا۔ اور جب وہ اس بستی کے نزدیک پہنچے تو مسیح نے آگے بڑھ کر چاہا کہ ان سے الگ ہوجائے۔ تب انہوں نے اس کو جانے سے روک لیا کہ آج رات ہم اکٹھے رہیں گے اور اس نے ان کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھائی اور وہ سب مع مسیح کے املوس* نام ایک گاؤں میں رات رہے۔ دیکھو لوقا باب ۲۴ آیت ۱۳ سے ۳۱ تک۔ اب ظاہر ہے کہ ایک جلالی جسم کے ساتھ جو موت کے بعد خیال کیا گیا ہے مسیح سے فانی جسم کے عادات صادر ہونا اور کھانا اور پینا اور سونا اور جلیل کی طرف ایک لمبا سفر کرنا جو یروشلم سے قریباً ستر۰ ۷ کوس کے فاصلے پر تھا بالکل غیر ممکن اور نامعقول بات ہے۔ اور باوجود اس کے کہ خیالات کے میلان کی وجہ سے انجیلوں کے ان قصوں میں بہت کچھ تغیر ہوگیا ہے تاہم جس قدر الفاظ پائے جاتے ہیں ان سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اُسی فانی اور معمولی جسم سے اپنے حواریوں کو ملا اور پیادہ پا جلیل کی طرف ایک لمبا سفر کیا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھلائے اور رات ان کے پاس روٹی کھائی اور سویا۔ اور آگے چل کر ہم ثابت کریں گے کہ اس نے اپنے زخموں کا ایک مرہم کے استعمال سے علاج کیا۔
اب یہ مقام ایک سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ایک جلالی اور ابدی جسم پانے کے بعد یعنی اس غیر فانی جسم کے بعد جو اس لائق تھا کہ کھانے پینے سے پاک ہوکر ہمیشہ خدائے تعالیٰ کے دائیں ہاتھ بیٹھے اور ہر ایک داغ اور درد اور نقصان سے منزّہ ہو اور ازلی ابدی خدا کے جلال کا اپنے اندر رنگ رکھتا ہو ابھی اس میں یہ نقص باقی رہ گیا کہ اس پر صلیب اور کیلوں کے تازہ زخم موجود تھے
* ایڈیشن اول میں سہو کتابت ہے ۔درست اماؤس ہے(EMMAUS)