کرامات اور پیشگوئیاں اس انسان سے ظاہر ہوتی ہیں جیسا کہ اب ظاہر ہو رہی ہیں۔ کیا ان میں کوئی ایسا رشی یا جوگی موجود ہے کہ وہ عجائب کام خدا تعالیٰ کے دکھلا سکے جو مجھ سے ظاہرہوتے ہیں؟ پس ظاہر ہے کہ ہندو مذہب پر عقلی اور کراماتی طور پر اسلام کی حجت پوری ہوگئی ۔ اب بعد اِس کے انکار کرنا ترک حیا ہے۔یہ تمام مضمون قریباًبیس ۲۰ سال سے چھپ کر شائع ہوچکے ہیں۔ یہ وہ اتمام حجت ہے جو بذریعہ کتابوں اور آسمانی نشانوں کے ہندوؤں پر کیا گیا اور اِس جگہ تھوڑا سا بطور خلاصہ اُن کتابوں میں سے لکھا گیا ہے جو سالہائے دراز سے چھپ کر بخوبی ملک میں شائع ہوچکی ہیں بلکہ بعض کتابیں مکرر بھی چھپ گئیں۔ اور عیسائیوں کی نسبت جو اتمام حجت کیا گیا وہ بھی دو قسم پر ہے۔ ایک وہ کتابیں ہیں جو میں نے عیسائیوں کے خیالات کے ردّ میں تالیف کیں جیسا کہ براہین احمدیہ اور نور الحق اور کشف الغطاء وغیرہ۔ دوسرے وہ نشان جو عیسائیوں پر حجت پوری کرنے کے لئے میں نے دکھلائے اور میں نے ان کتابوں میں جو عیسائیوں کے مقابل پر لکھی گئی ہیں ثابت کردیا ہے کہ عیسائیوں کا خونِ مسیح اور کفارہ کا مسئلہ ایسا غلط ہے کہ ایک دانشمند اور منصف کے لئے کافی ہے کہ اِسی مسئلہ پر غور کرکے خدا سے ڈرے اور اس مذہب سے علیحدہ ہو جائے * اور میں نے ان کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو *** ٹھہرانے کا عقیدہ جو عیسائیوں کے مذہب کا اصل الاصول ہے ایسا صریح البطلان ہے کہ ایک سطحی خیال کا انسان بھی معلوم کرسکتا ہے کہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ایسا مذہب سچا ہو جس کی بنیاد ایسے عقیدے پر ہو جو ایک راستباز کے دل کو *** کے سیاہ داغ کے ساتھ ملوث کرنا چاہتا ہے کیونکہ *** کا لفظ جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے * کیا کوئی عقل سلیم اس بات کو مان سکتی ہے کہ زید خون کرے اور بکر اس کے عوض میں سولی دیا جائے۔ منہ