نہایت پلید معنے رکھتا ہے اور اس لفظ کے ایسے خبیث معنے ہیں کہ بجز شیطان کے اور کوئی اس کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ عربی اور عبرانی کی زبان میں ملعون اس کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ کے لئے ردّ کیاجائے۔ اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے رحمت الٰہی سے ردّ کیا گیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں توریت سے قرآن شریف تک کسی ایسے شخص کی نسبت ملعون ہونے کا لفظ نہیں بولا گیا جس نے انجام کار خدا کی رحمت اورفضل سے حصہ لیاہو۔ بلکہ ہمیشہ سے یہ ملعون اور *** کا لفظ انہی ازلی بدبختوں پر اطلاق پاتا رہا ہے جو ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت اور نجات اور نظرِ محبت سے بے نصیب کئے گئے اور خدا کے لطف اور مہربانی اور فضل سے ابدی طور پر دور او ر مہجور ہو گئے اور ان کا رشتہ دائمی طور پر خداتعالیٰ سے کاٹ دیا گیا اور اُس جہنم کا خلود اُن کے لئے قرار پایا جو خدا تعالیٰ کے غضب کا جہنم ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونے کی اُمید نہ رہے ۔اور نبیوں کے منہ سے بھی یہ لفظ کبھی ایسے اشخاص کی نسبت اطلاق نہیں پایا جو کسی وقت خدا کی ہدایت اور فضل اوررحم سے حصہ لینے والے تھے۔ اس لئے یہودیوں کی مقدس کتاب اور اسلام کی مقدس کتاب کی رُو سے یہ عقیدہ متفق علیہ مانا گیا ہے کہ جو شخص ایسا ہو کہ خدا کی کتابوں میں اُس پر ملعون کالفظ بولا گیا ہو۔ وہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم اور بے نصیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ اِس آیت میں یہی اشارہ ہے۔3 3 ۱ یعنی زنا کار اور زنا کاری کی اشاعت کرنے والے جو مدینہ میں ہیں یہ *** ہیں یعنی ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے ردّ کئے گئے اس لئے یہ اِس لائق ہیں کہ جہاں ان کو پاؤ قتل کردو۔ پس اِس آیت میں اِس بات کی طرف یہ عجیب اشارہ ہے کہ *** ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم ہوتا ہے اور اس کی