کرلیں کہ وہ آیندہ کو کسی وقت معدوم ہو جائیں گی تو ساتھ ہی فرض کرنا پڑے گا کہ پرمیشر بھی آیندہ کو خالی ہاتھ بیٹھے گا۔ پس سوچنے کا مقام ہے کہ کیاخدائے حیّ و قیّوم کی یہی صفات ہونی چاہئیں اور کیااُس کی خدائی کی حقیقت اور اصلیت اِسی قدر ہے کہ اُس کی بادشاہت اُن چیزوں پر چلتی ہو جو اُس کی اپنی ملکیت نہیں۔ غرض میں نے ان کتابوں میں ثابت کیا ہے کہ ہندو مذہب کا گیان اور معرفت پر میشر کی نسبت جو کچھ ہے یہی ہے کہ وہ اُس کو قدیم سے معطل اور صفتِ خالقیت سے محروم قرار دیتے ہیں اور انسانی پاکیزگی کی نسبت وید کی تعلیم جس کو پنڈت دیانند نے آریوں کو سکھلایا ہے بطور نمونہ یہ ہے کہ ایک آریہ اولاد کے لئے اپنی پیاری بیوی کو اپنی زندگی اور جوانی کی حالت میں دوسرے سے ہم بستر کرا سکتا ہے تا کسی طرح اولاد پیدا ہو جائے۔ اِس عمل کو ہندوؤں کے مذہب میں نیوگ کہتے ہیں ۔ پس جس مذہب کا خدا تعالیٰ کی نسبت یہ خیال ہے کہ وہ قدیم سے عاجز اور کمزور اورپیدا کرنے کی صفت سے بے نصیب ہے اور جس مذہب نے مخلوق کی پاکیزگی کا اِس قدر خون کردیا ہے کہ خاوند جو فطرتاً انسانی غیرت کا جوش اپنیؔ بیوی کے معاملہ میں اِس قدر اپنے اندر رکھتا ہے کہ روا نہیں رکھتا کہ کسی غیر کی آواز کی طرف بھی وہ کان لگاوے اس کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ اولاد کی ضرورت کے لئے نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ اپنی جورو کو غیر انسان سے ہم بستر کراوے ایسے مذہب سے کس بہتری کی اُمید ہوسکتی ہے۔ علاوہ اِس کے میں نے اپنی کتابوں میں یہ بھی بیان کردیا ہے کہ ہندو مذہب کے پابند خوارق اور کرامات سے بے نصیب ہیں بلکہ اس کے منکر ہیں اور میں نے اِس طرح پر بھی ان لوگوں پر اتمام حجت کیا ہے کہ کئی آسمانی نشان ان کو دکھلائے ہیں اور ان پر ثابت کیا ہے کہ آسمان کے نیچے صرف ایک اِسلام ہے جس کی پیروی سے اِنسان کو خدا تعالیٰ کا قرب میسر آتا ہے اور اِس قرب کی برکت سے انواع اقسام کی