بکلی پردہ نیستی میں مخفی ہوتی ہیں اور سالہائے دراز کے بعد ان کا ظہور ہوتاہے۔ پھر اگر خدا تعالیٰ نیستی سے ہستی نہیں کرسکتا تو کشفوں اور خوابوں میں ایسی ہستی کیوں ظہور میں آجاتی ہے جس کا خارج میں کوئی نام ونشان نہیں۔ مثلاً اگر کسی کے گھر میں بیس سال کے بعد بیٹا پیدا ہونا ہو تو کبھی کبھی ایسا عجیب کشف یا عجیب خواب اس کو دکھلائی جاتی ہے کہ جو بیٹا پیدا ہونے سے پہلے بلکہ اُس بیٹے کی ماں کے وجود سے بھی پہلے وہ اپنے اس بیٹے کو خواب کی حالت میں یاکشف کی حالت میں بعینہٖ دیکھ لیتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات اُس سے باتیں کرلیتا ہے اور بسا اوقات وہ بیٹا ایسے راز اس کو بتلاتا ہے کہ جو مُدت ہائے دراز کے بعد اور تحصیل علم کے بعد وہ طاقت بیٹے میں پیدا ہوتی ہے* پس اگر خدا تعالیٰ انسان کی طرح مادہ اور پرکرتی کا محتاج ہے۔ تو مثلاً وہ بیٹا جو خواب میں یاکشف میں حاضر کیا جاتا ہے جس کی ابھی ماں بھی پیدا نہیں ہوئی وہ کس مادہ یا پرمانو سے بنایا جاتا ہے۔ پس جبکہ وہ قادر اس قسم کی بناوٹ بھی جانتا ہے کہ اُس حالت میں کسی انسان کا نشان ظاہر کردیتا ہے اور مجسم طور پر عین بیداری میں اس کو دکھا دیتا ہے جبکہ وہ بکلی بے نشان ہوتا ہے تو پھر اِس سے زیادہ اور کون سی حماقت ہوگی کہ اُس قادر کو مادہ کا محتاج سمجھا جائے۔ اگر ایسا ہی پرمیشر ہے تو اُس پر آیندہ کی دائمی خوشیوں کے لئے کوئی اُمید نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ آپ ہمیشہ مادہ اور رُوح کا محتاج ہے اور ایسی چیزوں کے سہارے سے اس کی خدائی چل رہی ہے جو اُس کے ہاتھ سے نکلی نہیں اور نہ نکل سکتی ہیں۔ پس ہندوؤں کے ویدوں کی یہ صریح غلطی ہے کہ وہ خدائی طاقت اور انسانی طاقت کو برابر درجہ پرسمجھتے ہیں اورکہتے ہیں کہ کسی اتفاق سے جس کا بھید معلوم نہیں اس قدر روحیں اور مادے موجود چلے آتے ہیں جو پرمیشر کی اپنی پیدا کردہ نہیں۔ اور انہی پر تمام کارخانہ پر میشر گری کا چل رہا ہے۔ اور اگرفرض * اس کے ثبوت کے لئے ہم خود ذمہ دار ہیں مگر وہ لوگ کہاں ہیں جو سچائی کے طالب ہوکر آویں؟ منہ