جس نے مخلوق کو عدم سے وجود دیا ہو بلکہ ہر ایک چیز قدیم او ر اپنے وجود کی آپ خدا ہے پس اس صورت میں ہندوؤں کے پرمیشر کی شناخت کے لئے اور ؔ اُس کی ہستی کو ماننے کے لئے کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی بلکہ اس مدعا کے مخالف دلائل قائم ہوتے ہیں۔اِسی وجہ سے ہندوؤں میں نصف کے قریب وہ فرقے ہیں جو پرمیشر کے وجود سے ہی منکر ہیں کیونکہ وید کی اِس تعلیم کے رُو سے کہ ارواح اور مادہ خود بخود ہیں پرمیشر کے وجود کی کچھ ضرورت معلوم نہیں ہوتی اور ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ جب یہ تمام قویٰ جو روحوں اور ذرّات میں موجود ہیں کسی موجد کی محتاج نہیں اور ان کا وجود کسی صانع کے وجود پر موقوف نہیں تو پھر صرف روح اور جسم کو جوڑنے کی صنعت جو ادنیٰ درجہ کی صنعت ہے، کیونکر کسی صانع کی محتاج ہوسکتی ہے۔ غرض یہ خیال کہ پرمیشر نے بعض اجزا کو بعض سے جوڑا ہے اور رُوح کو جو قدیم سے خود بخود موجود ہے۔ ان قدیم اجسام میں داخل کیا ہے یہ نہایت کمزور خیال ہے اور اس کو صانع کے وجود پر دلیل سمجھنا سراسر ناسمجھی ہے۔ کیونکہ جبکہ یہ تمام چیزیں قدیم سے علیحدہ علیحدہ خودبخود موجود ہیں اور اپنے وجود اور بقا میں دوسرے کی محتاج نہیں تو پھر ان چیزوں کے باہمی اتصال یا انفصال کیلئے کیوں پرمیشر کی حاجت ہے۔ اگر پرمیشر کی ذات ایسی واقع نہیں جو اُسی سے تمام چیزوں کا ظہور ہو اور اُسی سے تمام چیزوں کی بقا ہو اور اُسی سے ہر ایک چیز کو فیض پہنچے تو خود اُس کا وجود فضول ہوگا اور اُس کے وجود پر کسی چیز کی دلالت کاملہ نہیں ہوگی۔ ہندوؤں کا یہ خیال کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی صاف بتلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ اور اُس کی ذات اور صفات کی معرفت کی سچی کتابیں ہرگز ان کو نہیں ملیں لہٰذا انہوں نے اپنے پرمیشر کے افعال اور اس کی قوت اور شکتی کو صرف انسان کی قوت اور شکتی پر قیاس کرلیا ہے۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کیونکر انسان کی سچی خوابوں اور واقعی کشفوں میں ہزارہا ایسی چیزیں وجود پذیر ہوجاتی ہیں کہ ابھی وہ