کئی مرتبہ اِس رسالہ میں آیا ہے ان کو بھی میں نے اِس الہام سے اِطلا ع دے دی۔ غرض قبل اس کے کہ الہام کے پورا ہونے کے آثار ظاہرہوں۔ خوب اس کو مشتہر کیا۔ اور پھر اس الہام کے بعددوبارہ بذریعہ اشتہار لوگوں میں تحریک کی۔ مگر اب کی دفعہ کسی انسان پر نظر نہ تھی اور پوری نومیدی ہوچکی تھی اور صرف الہام الٰہی کی تعمیل مدنظر تھی۔ سو قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اشتہارات کے شائع ہوتے ہی بارش کی طرح روپیہ برسنے لگا اور کتاب چھپنی شروع ہوگئی یہاں تک کہ چار حصّے کتاب براہین احمدیہ کے چھپ کر شائع ہوگئے اور لاکھوں انسانوں میں اس کتاب کی شہرت ہوگئی۔ اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے گواہ بھی وہی اشخاص ہیں جن کا ابھی ذِکر کیا گیا ہے۔ اور یہ پیشگوئی آج سے تخمیناً بیس برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں مندرج ہوچکی ہے۔ دیکھو میری کتاب براہین احمدیہ صفحہ ۲۲۶۔ ۲۹ ایک دفعہ مجھے یہ الہام ہوا۔ عبد اللہ خاں ڈیرہ اسمٰعیل خاں ۔چنانچہ چند ہندو جو اتفاقاً اس وقت میرے پاس موجود تھے جن میں ایک لالہ شرمپت کھتری اور ایک لالہ ملاوا مل کھتری بھی ہے۔ ان کو یہ الہام سنا دیا گیا اور بعض مسلمانوں کو بھی سنادیا گیا اور صاف طور پر کہہ دیا گیا کہ اس الہام سے یہ مطلب ہے کہ آج عبد اللہ خان نام ایک شخص کا ہمارے نام کچھ روپیہ آئے گااور خط بھی آئے گا۔ چنانچہ ان میں سے ایک ہندو بشن داس نام اِس بات کے لئے مستعد ہوا کہ میں اِس الہام کو بذات خود آزماؤں۔ اور اتفاقاً اُن دنوں میں سب پوسٹ ماسٹر قادیاں کا بھی ہندو تھا ۔سو وہ ہندو ڈاکخانہ میں گیا اور آپ ہی سب پوسٹ ماسٹر سے دریافت کرکے یہ خبر لایا کہ عبد اللہ خاں نام ایک شخص کا اس ڈاک میں خط آیا ہے اور کچھ روپیہ آیا ہے۔ جب یہ ماجرا گذرا تو