۲۷ جب میں نے کتاب براہین احمدیہ تالیف کی تو اس وقت مجھے چھپوانے کی استطاعت نہ تھی میں نے جناب الٰہی میں دعا کی تو اِن الفاظ سے جواب آیا ۔ کہ بالفعل نہیں۔ چنانچہ ایک مُدّت تک باوجود ہر ایک طور کی کوششوں کے کچھ بھی سرمایہ طبع کتاب میسر نہ ہوسکا اور لوگوں کو باوجود تحریک اور شائعؔ کرنے اشتہارات کے دیر تک کچھ توجہ نہ ہوئی۔ غرض اسی طرح الہام پورا ہوا جس طرح کہ بتلایا گیا تھا یہاں تک کہ لوگوں کی عدم توجہی نے اِس الہام پر اطلاع رکھنے والوں کو تعجب میں ڈالا اور جن لوگوں کے پاس یہ پیشگوئی بیان کی گئی تھی ان کے دِل پر اس واقعہ کی بہت تاثیر ہوئی۔ اِس الہام کی اطلاع شیخ حامد علی اور لالہ شرمپت کھتری اور میاں جان محمد امام مسجد اور دوسرے اور کئی لوگوں کو قادیاں کے رہنے والوں میں سے قبل از وقت دی گئی تھی جو حلفاً بیان کرسکتے ہیں۔ اور یہ الہام عرصہ بیس سال سے کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے۔ دیکھو صفحہ ۲۲۵۔ ۲۸ جب اس الہام پر جو ابھی میں نے نمبر ۲۷ میں ذکر کیا ہے کچھ دیر گذر گئی اور براہین احمدیہ کے طبع کرانے کا شوق حد سے بڑھا اور کسی کی طرف سے مالی امداد نہ ہوئی تو میرے دِل پر صدمہ پہنچنا شروع ہوا۔ تب میں نے اسی اضطراب کی حالت میں دعا کی اس پر خداوند قدیر اور کریم کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ ھزّ الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رُطَبًا جنیا۔ یعنی کھجور کا پیڑ یا اس کی شاخوں میں سے کوئی شاخ ہلا تب تروتازہ کھجوریں تیرے پر گریں گی۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ اس الہام کی خبر میں نے مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو بھی دی تھی اور اس ضلع کے ایک اکسٹرا اسسٹنٹ کو بھی جس کا نام حافظ ہدایت علی تھا اور کئی اور لوگوں کو بھی اِطلاع دی اور قادیاں کے وہ دونوں ہندو یعنی شرمپت اور ملاوا مل جن کا ذکر